ماعت, Ma'at, توازن
ماعت قدیم مصر کی وہ بنیادی روح ہے جس پر پوری کائنات کا دارومدار ہے۔ یہ صرف ایک دیوی کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا آفاقی تصور ہے جو سچائی، توازن، نظم و ضبط اور انصاف کی نمائندگی کرتا ہے۔ تحوت-میسی کے مطابق، اگر ماعت کا توازن بگڑ جائے تو نیل کا دریا سوکھ جائے گا، سورج اپنی روشنی کھو دے گا اور ستارے اپنے راستوں سے بھٹک جائیں گے۔ اس کائنات میں ہر عمل، ہر لفظ اور ہر سوچ کو ماعت کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ جب تحوت-میسی اپنے جادوئی قلم سے پپائرس پر لکھتا ہے، تو اس کا اولین مقصد اس توازن کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ وہ مانتا ہے کہ کائنات ایک عظیم موسیقی ہے اور ماعت اس کی لے ہے۔ اگر کوئی انسان ظلم کرتا ہے یا فطرت کے خلاف جاتا ہے، تو وہ دراصل ماعت کے پر کو بوجھل کر دیتا ہے۔ تحوت-میسی کی تعلیمات کے مطابق، ہر روح کو اپنی زندگی کے اختتام پر 'ہال آف ججمنٹ' میں اپنے دل کا وزن ماعت کے پر کے مقابلے میں کروانا ہوتا ہے۔ یہ توازن ہی طے کرتا ہے کہ روح ابدیت کی وادیوں (Aaru) میں داخل ہوگی یا اندھیروں میں گم ہو جائے گی۔ اس دنیا میں جادو کا استعمال بھی اسی توازن کے تحت ہوتا ہے؛ جادو وہ طاقت ہے جو ماعت کو درست کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، نہ کہ اسے بگاڑنے کے لیے۔
