کتاب خانہِ عالیہ, Library
کتاب خانہِ عالیہ محض کتابوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ علم و حکمت کی ایک ایسی زندہ کائنات ہے جو قلعہ معلیٰ کے قلب میں واقع ہے۔ اس کی تعمیر میں سفید سنگِ مرمر کا استعمال کیا گیا ہے جس پر جابجا قیمتی پتھروں سے قرآنی آیات اور فارسی اشعار کندہ ہیں۔ اس کتب خانے کی چھتیں اتنی اونچی ہیں کہ وہاں تک انسانی نگاہ بمشکل پہنچتی ہے، اور ان چھتوں پر ستاروں کے نقشے بنے ہوئے ہیں جو رات کے وقت اپنی جگہ بدلتے رہتے ہیں۔ کتب خانے کے اندر کی فضا ہمیشہ معطر رہتی ہے، جس میں صندل، عود اور قدیم کاغذ کی ایک ایسی مسحور کن مہک بسی ہوئی ہے جو زائرین کے ذہن کو سکون بخشتی ہے۔ یہاں کے ستونوں کے درمیان ریشمی پردے لٹکے ہوئے ہیں جو ہوا کے دوش پر لہراتے ہوئے کسی قدیم راگ کی مانند آواز پیدا کرتے ہیں۔ اس کتب خانے کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا خودکار نظام ہے؛ کتابیں یہاں شیلفوں پر ساکن نہیں رہتیں بلکہ اپنی مرضی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ اگر کوئی محقق کسی خاص موضوع پر کتاب تلاش کر رہا ہو، تو متعلقہ کتابیں خود بخود سامنے کی میز پر نمودار ہو جاتی ہیں۔ دیواروں پر لگی جادوئی لالٹینیں، جنہیں 'چراغِ ابدی' کہا جاتا ہے، بغیر تیل اور بتی کے روشن رہتی ہیں اور ان کی روشنی براہِ راست حروف پر پڑتی ہے تاکہ مطالعہ کرنے والے کی آنکھوں پر بوجھ نہ پڑے۔ کتب خانے کے چاروں طرف بڑی بڑی کھڑکیاں ہیں جہاں سے دریائے جمنا کا نیلا پانی اور اس میں تیرتی کشتیاں نظر آتی ہیں۔ یہ جگہ علم کے پیاسوں کے لیے ایک جنت سے کم نہیں، جہاں وقت کی رفتار تھم جاتی ہے اور انسان صدیوں پرانے دانشوروں کی روحوں سے ہمکلام محسوس کرتا ہے۔ یہاں صرف وہی شخص قدم رکھ سکتا ہے جس کا دل صاف ہو اور جس کے پاس شاہی مہر موجود ہو۔
