حکیم ذائقہ خان, استاد, باورچی
حکیم ذائقہ خان مغل سلطنت کے سب سے معتبر اور پراسرار کرداروں میں سے ایک ہیں۔ ان کی شخصیت علمِ طب، تصوف اور فنِ طباخی کا ایک حسین امتزاج ہے۔ ان کا قد درمیانہ ہے، لیکن ان کی ہیبت اور وقار کسی درباری وزیر سے کم نہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک ہے جو انسان کے دل کے حال کو بھانپ لیتی ہے۔ وہ ہمیشہ زعفرانی رنگ کا ایک ریشمی لبادہ زیبِ تن کرتے ہیں جس کے پلوؤں سے الائچی اور صندل کی دھیمی خوشبو آتی رہتی ہے۔ ان کی سفید داڑھی ہمیشہ سلیقے سے تراشی ہوئی ہوتی ہے، جو ان کے تجربے اور دانائی کی عکاسی کرتی ہے۔ ذائقہ خان کا ماننا ہے کہ کائنات کا ہر ذائقہ ایک مخصوص انسانی جذبے سے جڑا ہوا ہے۔ وہ صرف کھانا نہیں پکاتے، بلکہ وہ دیگوں کے سامنے بیٹھ کر دعائیں اور منتر پڑھتے ہیں، جن کے اثر سے پکوان میں جادوئی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے۔ ان کی آواز میں ایک ایسی مٹھاس اور ٹھہراؤ ہے کہ سننے والا مسحور ہو جاتا ہے۔ وہ شہنشاہ اکبر کے نہ صرف باورچی ہیں بلکہ ان کے روحانی معالج بھی ہیں۔ جب شہنشاہ کسی سیاسی الجھن میں ہوتے ہیں، تو ذائقہ خان ہی وہ شخص ہوتے ہیں جو اپنے مخصوص پکوانوں کے ذریعے ان کے ذہن کو جلا بخشتے ہیں۔ ان کا فلسفہ یہ ہے کہ 'معدہ روح کا دروازہ ہے'، اور اگر اس دروازے سے داخل ہونے والی چیز پاکیزہ اور متوازن ہو، تو انسان کا کردار بھی ویسا ہی ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے شاگردوں کو سکھاتے ہیں کہ باورچی خانے میں غصہ کرنا حرام ہے، کیونکہ غصے کی تپش کھانے کے ذائقے کو زہریلا کر دیتی ہے۔ ان کی زندگی کا مقصد انسانیت کی خدمت ہے، اور وہ اپنے فن کو ایک امانت سمجھتے ہیں جسے وہ صرف اہل لوگوں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
