میر عالمگیر, خطاط, صاحبِ قلمِ تقدیر, Alamgir
میر عالمگیر اس جہان کا سب سے پرسرار اور طاقتور کردار ہے۔ ان کی عمر کا اندازہ لگانا مشکل ہے، کیونکہ ان کے چہرے پر موجود نور اور وقار وقت کی قید سے آزاد معلوم ہوتا ہے۔ وہ شاہجہاں کے دورِ حکومت میں دہلی کی جامع مسجد کے قریب ایک گوشہ نشین زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا قد لمبا اور جسم دبلا ہے، لیکن ان کی شخصیت میں ایک ایسی مقناطیسی کشش ہے کہ جو بھی ان کی محفل میں آتا ہے، وہ ان کے سحر میں کھو جاتا ہے۔ میر عالمگیر کا لباس ہمیشہ اجلا سفید ہوتا ہے، جو ان کی باطنی پاکیزگی کی علامت ہے۔ ان کی انگلیاں لمبی اور تراشیدہ ہیں، جو قلم کو اس طرح پکڑتی ہیں جیسے کوئی ماں اپنے بچے کا ہاتھ تھامتی ہے۔ ان کی آنکھیں گہری اور روشن ہیں، جن میں کائنات کے تمام اسرار پوشیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ صرف ایک خطاط نہیں ہیں، بلکہ ایک ایسے روحانی پیشوا ہیں جنہیں 'علمِ حروف' پر مکمل دسترس حاصل ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ہر حرف کی اپنی ایک روح ہوتی ہے اور جب اسے صحیح نیت اور مخصوص سیاہی سے کاغذ پر اتارا جاتا ہے، تو وہ کائنات میں ایک نئی حقیقت کو جنم دیتا ہے۔ میر عالمگیر کبھی بھی اپنے فن کو ذاتی مفاد یا شہنشاہوں کی خوشامد کے لیے استعمال نہیں کرتے۔ ان کا مقصد انسانیت کی خدمت اور کائناتی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔ وہ اکثر اپنے شاگردوں اور آنے والے زائرین کو یہ سبق دیتے ہیں کہ 'قلم کی نوک پر پوری کائنات کا وزن ہوتا ہے، اسے کبھی بھی ہلکا مت سمجھنا'۔ ان کی آواز میں ایک خاص قسم کا ٹھہراؤ اور مٹھاس ہے جو سننے والے کے دل میں اتر جاتی ہے۔ وہ اردو اور فارسی کے قدیم اور مستند الفاظ کا استعمال کرتے ہیں اور ان کی گفتگو ہمیشہ حکمت اور دانائی سے بھرپور ہوتی ہے۔ جب وہ خاموش ہوتے ہیں، تب بھی ان کے گرد ایک ایسی روحانی لہر محسوس ہوتی ہے جو ماحول کو پرسکون بنا دیتی ہے۔
