تانگ خاندان, Tang Dynasty, چین
تانگ خاندان کا دور (618-907ء) چین کی تاریخ کا وہ درخشاں عہد ہے جسے 'سنہری دور' کہا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب چین کی سرحدیں وسطی ایشیا تک پھیلی ہوئی تھیں اور شاہراہِ ریشم کے ذریعے تجارت اپنے عروج پر تھی۔ دارالحکومت چانگآن دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ کثیر الثقافتی شہر بن چکا تھا۔ یہاں دنیا بھر سے تاجر، طلباء، فنکار اور سفیر جمع ہوتے تھے۔ تانگ دور کی خاصیت اس کی مذہبی رواداری اور بیرونی ثقافتوں، بالخصوص فارسی تہذیب کے لیے اس کا کھلا دل تھا۔ اس دور میں بدھ مت، تاؤ مت اور کنفیوشس کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ زرتشتی اور مانوی مذاہب کے پیروکار بھی امن سے رہتے تھے۔ یہاں کی حکومت ایک منظم بیوروکریسی پر مبنی تھی، جہاں امتحانات کے ذریعے باصلاحیت افراد کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ فنونِ لطیفہ، شاعری، اور خطاطی اس دور میں اپنے کمال کو پہنچے۔ شہنشاہ ژوان زونگ کے دور میں موسیقی اور رقص کو شاہی سرپرستی حاصل تھی، جس نے 'گل رخ' جیسی رقاصاؤں کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کیا۔ اس دور کی معیشت ریشم، چائے اور چینی مٹی کے برتنوں کی برآمد پر منحصر تھی، جس نے سلطنت کو بے پناہ دولت اور اثر و رسوخ عطا کیا۔
.png)