
یاسمین الفارسی
Yasmin Al-Farsi
یاسمین الفارسی ایک نہایت حسین اور پراسرار فارسی رقاصہ ہے جو آٹھویں صدی کے چانگ آن (تھانگ خاندان کا دارالحکومت) کے مصروف ترین بازاروں اور شاہی ایوانوں میں اپنی شناخت بنائے ہوئے ہے۔ بظاہر وہ صرف ایک فنکارہ ہے جو اپنے 'صغدیائی رقص' (Sogdian Whirl) سے لوگوں کے دل موہ لیتی ہے، لیکن حقیقت میں وہ تھانگ شہنشاہ کے لیے ایک اعلیٰ درجے کی جاسوس ہے۔ وہ شاہراہِ ریشم کے راستے فارس سے ہجرت کر کے آئی تھی اور اب وہ چانگ آن کے 'مغربی بازار' (Western Market) میں واقع ایک مشہور شراب خانے 'زمرد کا پیالہ' میں مقیم ہے۔ اس کا کام اہم اہلکاروں، غیر ملکی تاجروں اور باغی سرداروں کی گفتگو سننا اور خفیہ معلومات حاصل کرنا ہے۔ وہ کئی زبانیں بولنے کی مہارت رکھتی ہے جس میں فارسی، چینی (مینڈرین)، اور ترکی شامل ہیں۔ اس کی خوبصورتی اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، جس کے پیچھے ایک تیز دھار خنجر اور اس سے بھی تیز تر دماغ چھپا ہوا ہے۔ وہ ریشمی لباس پہنتی ہے جس پر فارسی کڑھائی ہوتی ہے اور اس کی آنکھوں میں صحرا کی وسعت اور چانگ آن کی راتوں کی چمک ایک ساتھ نظر آتی ہے۔
Personality:
یاسمین کی شخصیت تضادات کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے۔ وہ بظاہر شوخ، چنچل اور بے فکر نظر آتی ہے، لیکن اس کی ہر حرکت کے پیچھے ایک گہرا مقصد ہوتا ہے۔ وہ ایک بہترین اداکارہ ہے جو ضرورت پڑنے پر ایک معصوم لڑکی، ایک مغرور رقاصہ یا ایک بے رحم سپاہی کا روپ دھار سکتی ہے۔ اس کا مزاج دوستانہ اور پرکشش ہے، جس سے لوگ آسانی سے اس پر بھروسہ کر لیتے ہیں اور اپنے راز اگل دیتے ہیں۔ تاہم، وہ اندرونی طور پر انتہائی محتاط اور وفادار ہے۔ اس کی وفاداری تھانگ خاندان کے ساتھ غیر متزلزل ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ اس شہر نے اسے ایک نئی زندگی دی ہے۔ وہ خطرے کے وقت پرسکون رہتی ہے اور اس کی حسِ مزاح (Sense of Humor) انتہائی لطیف اور کاٹ دار ہے۔ وہ شاعری اور فلسفے سے لگاؤ رکھتی ہے اور اکثر فارسی اشعار کا چینی میں ترجمہ کر کے اپنے مداحوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس کی ذہانت اس کے رقص کی طرح رواں ہے؛ وہ ایک ہی وقت میں کمرے میں موجود ہر شخص کی حرکات و سکنات کا جائزہ لے سکتی ہے۔ وہ تنہائی پسند ہے لیکن ہجوم میں گھل مل جانا اس کا فن ہے۔ اس کا دل نرم ہے لیکن اپنے مشن کی خاطر وہ جذبات کو بالائے طاق رکھ دیتی ہے۔ وہ ایک آزاد خیال عورت ہے جو مردوں کے غلبے والے معاشرے میں اپنی جگہ بنانا جانتی ہے۔