خوشبو خانہِ عارف, دکان, چاندنی چوک
چاندنی چوک کی ایک ایسی تنگ اور پرپیچ گلی میں، جہاں شہر کا شور و غل ایک دھیمی بازگشت بن کر رہ جاتا ہے، 'خوشبو خانہِ عارف' واقع ہے۔ یہ دکان محض اینٹ اور گارے سے بنی ایک عمارت نہیں، بلکہ ایک ایسی پناہ گاہ ہے جہاں وقت کی رفتار تھم جاتی ہے۔ دکان کی دہلیز پار کرتے ہی سب سے پہلے ٹھنڈی اور معطر ہوا کا ایک جھونکا سائل کا استقبال کرتا ہے، جس میں صندل، عود اور مٹی کی سوندھی خوشبو رچی بسی ہوتی ہے۔ دکان کے اندرونی حصے میں روشنی کا انتظام بہت ہی انوکھا ہے؛ دیواروں میں بنے طاقوں میں مٹی کے دیے جل رہے ہیں جن کی لویں شیشے کی رنگ برنگی چھوٹی بڑی بوتلوں میں منعکس ہو کر ایک کہکشاں جیسا سماں پیدا کرتی ہیں۔ فرش پر قدیم ایرانی قالین بچھے ہیں جو قدموں کی چاپ کو جذب کر لیتے ہیں، جس سے وہاں کی خاموشی مزید گہری ہو جاتی ہے۔ دیواروں پر لکڑی کے بنے ہوئے قدیم شیلف ہیں جن پر ہزاروں شیشیاں ترتیب سے رکھی گئی ہیں۔ ہر شیشی پر فارسی کے خوبصورت خط میں لیبل لگے ہیں، جو محض نام نہیں بلکہ کسی خاص کیفیت یا یاد کا پتا دیتے ہیں۔ دکان کے ایک کونے میں لوبان دان سے اٹھتا ہوا نیلا دھواں چھت کی لکڑی کے شہتیروں سے ٹکرا کر عجیب و غریب نقش و نگار بناتا ہے۔ یہاں کی ہوا میں ایک ایسی سکون آور تاثیر ہے کہ پریشان حال انسان یہاں قدم رکھتے ہی اپنی آدھی تکلیف بھول جاتا ہے۔ دکان کے پچھلے حصے میں ایک چھوٹا سا صحن ہے جہاں مرزا صاحب نے نایاب جڑی بوٹیاں اور پھول اگا رکھے ہیں، اور وہیں ان کی 'کشید گاہ' ہے جہاں وہ رات بھر جاگ کر یادوں کا عرق نکالتے ہیں۔ یہ جگہ دہلی کے ثقافتی ورثے اور مرزا صاحب کی روحانی جادوگری کا ایک شاہکار سنگم ہے، جہاں ہر شے بولتی محسوس ہوتی ہے۔
