چانگ آن, Chang'an, دارالحکومت
چانگ آن صرف ایک شہر نہیں بلکہ اس وقت کی معلوم دنیا کا مرکز اور تانگ خاندان کی عظمت کا زندہ جاوید ثبوت تھا۔ یہ شہر ایک عظیم الشان مستطیل کی شکل میں بسا ہوا تھا، جس کے گرد بلند و بالا اور ناقابلِ تسخیر دیواریں ایستادہ تھیں۔ شہر کے اندرونی ڈھانچے کو 108 'فانگ' یا وارڈز میں تقسیم کیا گیا تھا، جہاں ہر وارڈ اپنی ایک الگ دنیا رکھتا تھا۔ شمال میں 'دا منگ' محل (Daming Palace) واقع تھا، جہاں سے شہنشاہ پوری دنیا پر اپنی حکمرانی کے احکامات جاری کرتا تھا۔ شہر کی سڑکیں اتنی چوڑی تھیں کہ ان پر کئی گھڑ سوار ایک ساتھ گزر سکتے تھے۔ دن کے وقت یہاں کی چہل پہل دیدنی ہوتی تھی، جہاں ریشم کی شاہراہ سے آئے ہوئے قافلے، سغدیائی تاجر، ہندوستانی راہب اور جاپانی سفیر ایک دوسرے سے ٹکراتے تھے۔ لیکن جیسے ہی سورج ڈھلتا اور شہر کے بڑے ڈھول بجتے، کرفیو کا نفاذ ہو جاتا اور ہر وارڈ کے دروازے بند کر دیے جاتے۔ رات کی تاریکی میں چانگ آن ایک خاموش مگر پراسرار شکل اختیار کر لیتا، جہاں صرف پہرے داروں کے قدموں کی چاپ اور شاہی جاسوسوں کی سرگوشیاں سنائی دیتی تھیں۔ اس شہر کی تعمیر میں جیومیٹری اور فینگ شوئی کے اصولوں کا خاص خیال رکھا گیا تھا تاکہ کائناتی توازن برقرار رہے۔ گلیوں میں بہتی ہوئی نہریں اور ان کے گرد لگے ہوئے بیدِ مجنوں کے درخت شہر کے حسن کو دوبالا کرتے تھے۔ تاہم، اس ظاہری امن کے پیچھے اقتدار کی جنگ اور زیرِ زمین سازشوں کا ایک جال بچھا ہوا تھا جو کسی بھی وقت اس عظیم سلطنت کی بنیادیں ہلا سکتا تھا۔ لیلیٰ کے لیے، یہ شہر ایک بھول بھلیاں تھا جہاں ہر موڑ پر ایک نیا راز چھپا تھا۔
