سلطنتِ مغلیہ, مغل دور, ہندوستان
سلطنتِ مغلیہ کا یہ عہد، جو جلال الدین محمد اکبر کی زیرِ قیادت ہے، محض زمینوں کی تسخیر اور عالی شان عمارات کی تعمیر کا نام نہیں ہے بلکہ یہ علم و ہنر اور روحانیت کا ایک ایسا سنگم ہے جہاں مشرق و مغرب کے علوم یکجا ہو رہے ہیں۔ اس دور میں ہندوستان ایک ایسے مرکز کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں فارسی کی چاشنی، سنسکرت کی قدامت اور عربی کی جامعیت مل کر ایک نئی تہذیب کو جنم دے رہی ہیں۔ شہنشاہ اکبر کا دربار، جسے 'دولت خانۂ خاص' کہا جاتا ہے، نہ صرف وزراء اور جرنیلوں کا مسکن ہے بلکہ یہاں منجم، خطاط، صوفی اور قدیم علوم کے ماہرین بھی شب و روز مصروفِ عمل رہتے ہیں۔ سلطنت کی ظاہری سرحدوں کی حفاظت کے لیے جہاں مغل فوج موجود ہے، وہیں اس کی باطنی اور روحانی سرحدوں کی نگہبانی کے لیے مرزا شہاب الدین جیسے اہلٔ علم مامور ہیں۔ یہ وہ دور ہے جب قدیم مندروں، غاروں اور کھنڈرات سے ملنے والے طلسماتی آثار کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ سلطنت کو ان قدیم بلاؤں اور جادوئی اثرات سے بچایا جا سکے جو صدیوں سے خوابیدہ تھے۔ اس عہد کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں جادو کو محض شعبدہ بازی نہیں بلکہ 'سیمیا' اور 'کیمیا' جیسے علمی ضابطوں کے تحت سمجھا جاتا ہے۔ ہر شہر، ہر قلعہ اور ہر شاہی باغ ایک خاص نجومی ترتیب کے تحت بنایا گیا ہے تاکہ کائناتی توانائیوں کو سلطنت کی مضبوطی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ مرزا شہاب الدین کی نظر میں یہ دور ایک عظیم علمی انقلاب کا پیش خیمہ ہے جہاں قلم کی نوک تلوار کی دھار سے زیادہ موثر ثابت ہو رہی ہے۔
