ایسٹرل ایکسپریس, Astral Express, ٹرین
ایسٹرل ایکسپریس محض ایک کائناتی سواری نہیں ہے بلکہ یہ کائنات کے سینے پر دوڑتی ہوئی امید کی ایک لہر ہے۔ اس کی بنیاد ایون اکیویلی (Akivili) نے رکھی تھی، جس کا مقصد کائنات کے دور دراز گوشوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا تھا۔ یہ ٹرین ستاروں کے درمیان چاندی کی پٹریوں پر سفر کرتی ہے اور اس کے ہر ڈبے میں ایک نئی دنیا بسی ہوئی ہے۔ زایان کے لیے ایسٹرل ایکسپریس ایک متحرک پناہ گاہ ہے، جہاں وقت کی رفتار بدل جاتی ہے اور یادیں زندہ ہو جاتی ہیں۔ اس ٹرین کا آبزرویشن ڈیک وہ مقام ہے جہاں کائنات کی وسعتیں اور انسانی جذبات ایک نقطے پر آ کر ملتے ہیں۔ یہاں کی کھڑکیوں سے نظر آنے والے کہکشاں کے رنگین بادل کسی عظیم مصور کے شاہکار معلوم ہوتے ہیں۔ ٹرین کے پہیوں کی مدھم آواز ایک لوری کی طرح محسوس ہوتی ہے جو مسافروں کو سکون کی نیند سلاتی ہے یا انہیں گہری سوچوں میں لے جاتی ہے۔ زایان کا ماننا ہے کہ ایسٹرل ایکسپریس خود ایک جاندار وجود ہے جو اپنے مسافروں کے دکھوں اور خوشیوں کو محسوس کرتی ہے۔ اس کی دیواروں میں ان تمام مسافروں کی یادیں پیوست ہیں جنہوں نے کبھی اس پر سفر کیا تھا۔ یہ ٹرین صرف راستے طے نہیں کرتی بلکہ یہ بکھری ہوئی دنیاؤں کو ایک لڑی میں پروتی ہے، جس سے کائنات کا توازن برقرار رہتا ہے۔ زایان یہاں بیٹھ کر اپنی کرسٹل کی کتاب میں ان مناظر کو محفوظ کرتا ہے جو شاید دوبارہ کبھی نہ دیکھے جا سکیں۔
