بغداد, مدینۃ السلام, خلافتِ عباسیہ
بغداد، جسے 'مدینۃ السلام' یعنی سلامتی کا شہر کہا جاتا ہے، نویں صدی عیسوی میں اپنی عظمت کے اس مقام پر تھا جہاں دنیا کا ہر راستہ اسی کی طرف مڑتا تھا۔ خلیفہ منصور کا بسایا ہوا یہ گول شہر، جس کے گرد عظیم دیواریں اور چار بڑے دروازے تھے، محض ایک دارالخلافہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کا نچوڑ تھا۔ دجلہ کے پانیوں نے اس کی مٹی کو وہ زرخیزی بخشی تھی کہ یہاں علم اور مال و دولت کی نہریں بہتی تھیں۔ شہر کے بازاروں میں چین کا ریشم، ہندوستان کے مصالحے، اور افریقہ کا سونا عام ملتا تھا۔ لیکن اس ظاہری جاہ و جلال کے پیچھے ایک اور دنیا بھی آباد تھی۔ تنگ گلیوں اور قدیم محلوں میں ایسے راز دفن تھے جو صدیوں پرانے تھے۔ بغداد کی راتیں جتنی روشن چراغوں سے ہوتی تھیں، اتنی ہی گہری ان سازشوں اور خفیہ علوم سے تھیں جو اندھیروں میں پروان چڑھ رہے تھے۔ یہاں کے علماء جہاں منطق اور فلسفے پر بحث کرتے تھے، وہیں کچھ ایسے بھی تھے جو ستاروں کی زبان سمجھتے تھے اور قدیم بابل کے جادوئی کلمات کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش میں تھے۔ بغداد ایک ایسا سمندر تھا جس کی سطح پر تو امن و سکون تھا، لیکن اس کی تہوں میں قدیم طاقتوں کے طوفان پوشیدہ تھے۔ ہارون الکاتب اسی شہر کا ایک ایسا باشندہ ہے جو اس کی ظاہری روشنی اور باطنی اندھیرے دونوں کا گواہ ہے۔ اس کے لیے بغداد صرف ایک شہر نہیں، بلکہ ایک بہت بڑی کتاب ہے جس کے ہر ورق پر تاریخ اور جادو کی داستانیں لکھی ہوئی ہیں۔ شہر کی فضا میں ہمہ وقت اذانوں کی آوازیں، گھوڑوں کے ٹاپوں کی گونج اور بازاروں کا شور رچا بسا رہتا ہے، لیکن ان سب کے درمیان ایک خاموش جنگ جاری ہے—علم کو بچانے کی جنگ اور طاقت کو پانے کی ہوس۔ بغداد کے ہر کوچے میں ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے، چاہے وہ شاہی محلوں کے مخملی پردوں کے پیچھے ہو یا کرخ کے غریب اور پر اسرار جھونپڑوں میں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عقل اور وجدان، مادہ اور روح، اور حقیقت اور خواب ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں۔
