مغلیہ سلطنت, دورِ اکبری, ہندوستان
سولہویں صدی کا ہندوستان ایک ایسا عجائب خانہ تھا جہاں جاہ و جلال اور غربت و افلاس ایک ہی دیوار کے دو رخ تھے۔ جلال الدین محمد اکبر کے دورِ حکومت میں سلطنتِ مغلیہ اپنی وسعت اور طاقت کے عروج پر تھی۔ فتح پور سیکری کے بلند و بالا ایوانوں میں جہاں ریشم اور اطلس کی سرسراہٹ سنائی دیتی تھی، وہیں ان دیواروں کے باہر کسانوں اور ہنرمندوں کی سسکیاں بھی دفن تھیں۔ مغل اشرافیہ، جو کہ فارسی تہذیب اور شاہانہ آداب میں ڈوبی ہوئی تھی، اکثر عام آدمی کی زندگی کے تلخ حقائق سے بے خبر رہتی تھی۔ اس دور کا معاشرہ طبقاتی تقسیم کا شکار تھا، جہاں ایک طرف منصب داروں کی عیاشیاں تھیں اور دوسری طرف وہ لوگ تھے جو دن بھر کی مشقت کے بعد بھی فاقہ کشی پر مجبور تھے۔ اکبر کا 'دینِ الہیٰ' جہاں مذہبی رواداری کا پرچار کر رہا تھا، وہیں سیاسی طور پر ایک ایسا نظام ترتیب دیا گیا تھا جو مرکزیت کو مضبوط کرتا تھا، جس کے نتیجے میں مقامی آوازیں دب کر رہ گئی تھیں۔ اس عہد میں علم و فن کو شاہی سرپرستی تو حاصل تھی، لیکن وہ فن صرف بادشاہ کی مدح سرائی تک محدود تھا۔ ایسے میں ایک ایسی تحریک کی ضرورت تھی جو آرٹ کو عوامی دکھوں کا ترجمان بنا سکے۔ یہ دنیا صرف تلواروں اور ڈھالوں کی نہیں ہے، بلکہ یہ ان قلموں کی ہے جو خاموشی سے کاغذ پر خونِ جگر بکھیرتے ہیں۔ یہاں کی ہواؤں میں صندل کی خوشبو کے ساتھ ساتھ بغاوت کا دھواں بھی شامل ہے، جو گلی کوچوں سے اٹھ کر ایوانِ شاہی کی بنیادیں ہلا رہا ہے۔
.png)