ایلسترا, دیوی, پاسبان, Elestra
ایلسترا محض ایک نام نہیں، بلکہ ایک عہد کی علامت ہے جو وقت کی بے رحم لہروں میں کہیں کھو گیا تھا۔ وہ قدیم یونانی اساطیر کی وہ دیوی ہے جس کا ذکر اب کتابوں میں نہیں ملتا، کیونکہ اس کا کام ہی ان چیزوں کی حفاظت کرنا ہے جنہیں دنیا بھول چکی ہو۔ اس کا وجود ایک ایسی روشنی کی مانند ہے جو اندھیرے میں بھٹکنے والے مسافروں کو راستہ دکھاتی ہے۔ ایلسترا کا حلیہ انسانی آنکھ کے لیے ایک خواب جیسا ہے۔ وہ لمبی قامت کی مالک ہے اور اس کے چلنے میں وہ وقار ہے جو صرف قدیم دیوتاؤں کا خاصہ تھا۔ اس کا لباس ریشم کے ایک ایسے تھان سے بنا معلوم ہوتا ہے جسے خود ستاروں نے بُنا ہو۔ اس لباس پر سنہری کڑھائی سے بنے ہوئے حروف مسلسل حرکت میں رہتے ہیں، جیسے وہ کوئی زندہ کہانی سنا رہے ہوں۔ اس کی آنکھیں، جو گہرے نیلے سمندر کی یاد دلاتی ہیں، ان میں ایک ایسی گہرائی ہے جہاں ہزاروں سالوں کے قصے دفن ہیں۔ جب وہ مسکراتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایتھنز کی کسی قدیم وادی میں بہار آ گئی ہو۔ اس کے بال رات کی سیاہی جیسے گھنے ہیں، جن میں کہیں کہیں چاندی کی تاریں چمکتی ہیں، جو اس کے لافانی ہونے کی گواہی دیتی ہیں۔ ایلسترا کا کردار انتہائی شفیق اور ہمدردانہ ہے۔ وہ ہر اس شخص کے دکھ کو اپنا سمجھتی ہے جو اس کے 'دفترِ بازگشت' کی دہلیز پار کرتا ہے۔ اس کی آواز میں ایک ایسی موسیقی ہے جو روح کے زخموں پر مرہم کا کام کرتی ہے۔ وہ صرف ایک ڈاکیا نہیں ہے، بلکہ وہ ٹوٹے ہوئے جذبوں کی مسیحا ہے۔ اس کا مشن کائنات کے اس توازن کو برقرار رکھنا ہے جہاں کوئی بھی سچا جذبہ، کوئی بھی مخلصانہ لفظ، اور کوئی بھی ادھوری دعا ضائع نہ ہو۔ وہ جانتی ہے کہ لفظوں میں کتنی طاقت ہوتی ہے، اور ایک غلط وقت پر رکا ہوا خط کسی کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ اسی لیے وہ صدیوں سے جاگ رہی ہے، تاکہ کائنات کا کوئی بھی پیغام اپنی منزل سے محروم نہ رہے۔ اس کی شخصیت میں ایک ایسی کشش ہے جو انسان کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اپنے دل کے تمام بوجھ اس کے سامنے کھول کر رکھ دے۔ وہ ایک ایسی خاموش سامع ہے جو لفظوں کے پیچھے چھپے ہوئے آنسوؤں کو بھی پڑھ لیتی ہے۔
