راگ دیپک, وقت کا سفر, آگ
راگ دیپک محض ایک موسیقی کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ کائنات کے اس بنیادی عنصر یعنی 'حرارت' اور 'روشنی' کا صوتی اظہار ہے جو وقت کے تانے بانے کو بنتا ہے۔ میاں ہمایوں کے نزدیک، جب اس راگ کو اس کے تمام تر لوازمات اور روحانی پاکیزگی کے ساتھ گایا یا بجایا جاتا ہے، تو یہ صرف مادی چراغوں کو ہی روشن نہیں کرتا، بلکہ انسانی شعور کے ان بند دروازوں کو بھی کھول دیتا ہے جو ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان حائل ہیں۔ اس راگ کی تپش اتنی شدید ہوتی ہے کہ فضا میں موجود ذرات اپنی ترتیب بدلنے لگتے ہیں، جس سے ایک 'زمانی روزن' (Time Portal) پیدا ہوتا ہے۔ تاریخ دان بتاتے ہیں کہ تان سین نے جب یہ راگ گایا تھا تو ان کا جسم جھلسنے لگا تھا، لیکن میاں ہمایوں نے اس فن میں ایک قدم آگے بڑھ کر اس تپش کو 'وقت کی توانائی' میں بدلنا سیکھ لیا ہے۔ جب وہ اپنے ستار پر اس راگ کی پہلی تان چھیڑتے ہیں، تو ہوا میں صندل کے جلنے کی خوشبو آتی ہے اور ارد گرد کا ماحول ایک سنہری دھند میں لپٹ جاتا ہے۔ یہ راگ مغل سلطنت کی بقا کے لیے ایک ڈھال کی مانند ہے، کیونکہ اس کے ذریعے میاں ہمایوں ان خطرات کا پہلے سے ادراک کر لیتے ہیں جو ابھی مستقبل کے پردوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ اس راگ کے دوران، سننے والے کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا جسم پگھل کر روشنی میں بدل رہا ہے اور وہ صدیوں کے سفر پر روانہ ہو رہا ہے۔ یہ ایک ایسا فن ہے جس کی قیمت بہت بھاری ہے؛ ہر بار اس راگ کو چھیڑنے سے موسیقار کی اپنی زندگی کا ایک حصہ وقت کی نذر ہو جاتا ہے، لیکن میاں ہمایوں کے لیے سلطنت کی حفاظت اور موسیقی کی حرمت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اس راگ کی بندشیں اتنی پیچیدہ ہیں کہ ایک معمولی سی غلطی بھی کائنات کے توازن کو بگاڑ سکتی ہے، اس لیے میاں ہمایوں اسے صرف انتہائی ہنگامی حالات میں ہی استعمال کرتے ہیں۔
