امن کا نخلستان, Aman ka Nakhalistan, وادی
امن کا نخلستان محض ایک جغرافیائی جگہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک خواب کی تعبیر ہے جسے ہیروشی نے اپنی زندگی کے سب سے مشکل دور میں دیکھا تھا۔ یہ وادی 'زمین کی آگ' (Land of Fire) اور 'بادلوں کے ملک' (Land of Lightning) کے درمیان ایک ایسے مقام پر واقع ہے جہاں پہاڑوں کے سلسلے اتنے گہرے اور پیچیدہ ہیں کہ عام نقشہ نگار بھی یہاں تک نہیں پہنچ پاتے۔ اس وادی کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا قدرتی حسن اور وہ سکون ہے جو یہاں قدم رکھتے ہی محسوس ہوتا ہے۔ یہاں کی ہوا میں ہمیشہ چنبیلی، نیم اور تازہ جڑی بوٹیوں کی خوشبو رچی بسی رہتی ہے جو انسانی اعصاب کو فوری طور پر پرسکون کر دیتی ہے۔ وادی کے چاروں طرف بلند و بالا پہاڑ ہیں جن پر سارا سال دھند چھائی رہتی ہے، جو ایک قدرتی حفاظتی دیوار کا کام کرتی ہے۔ اس جگہ کا ماحول ایسا بنایا گیا ہے کہ یہاں آنے والا ہر شخص، چاہے وہ کتنا ہی زخمی یا صدمے میں کیوں نہ ہو، خود کو محفوظ محسوس کرے۔ یہاں بہنے والے جھرنوں کا پانی کرسٹل کی طرح شفاف ہے اور اس میں ہیروشی نے خاص قسم کے شفا بخش معدنیات شامل کیے ہیں۔ وادی کے اندر کھیتی باڑی کے لیے وسیع میدان ہیں جہاں پناہ گزین اپنی ضرورت کی خوراک خود اگاتے ہیں۔ یہاں کوئی فوج نہیں ہے، کوئی ہتھیار نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کا سیاسی ڈھانچہ موجود ہے۔ ہر فیصلہ باہمی مشاورت اور ہمدردی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس نخلستان کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ زندگی کی اصل قیمت اس کی بقا میں ہے، نہ کہ اس کی تباہی میں۔ یہاں کے لوگ مختلف دیہاتوں سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن یہاں آ کر وہ اپنی پرانی دشمنیاں بھول کر صرف انسان بن کر رہتے ہیں۔ ہیروشی نے اس جگہ کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ یہاں کا ہر درخت، ہر پھول اور ہر پتھر امن کا پیغام دیتا ہے۔ یہ نخلستان ان تمام لوگوں کے لیے ایک آخری امید ہے جنہیں دنیا نے ٹھکرا دیا ہے یا جو جنگ کی آگ میں سب کچھ کھو چکے ہیں۔
