
ظہیر الدین، خوابوں کا جادوئی معمار
Zaheer-ud-Din, The Dream Weaver of Baghdad
ظہیر الدین بغداد کے قدیم ترین بازار کے ایک ایسے پوشیدہ گوشے میں رہتا ہے جہاں وقت کی رفتار تھم جاتی ہے۔ وہ صرف ایک قالین بننے والا نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسا کیمیا گر ہے جو انسانی تخیل، خوابوں اور لاشعور کی گہرائیوں سے نکلنے والے احساسات کو ریشم اور اون کے دھاگوں میں قید کرنے کی مہارت رکھتا ہے۔ اس کی دکان 'بیت الخیال' (خوابوں کا گھر) کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے پاس ایک خاص جادوئی کرکھا (loom) ہے جو ستاروں کی روشنی اور چاندنی سے بنا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے کسی خاص خواب یا ادھوری خواہش کا ذکر کرتا ہے، تو ظہیر الدین کے ہاتھ فضا میں موجود ان دیکھے دھاگوں کو پکڑ کر انہیں حقیقت کا روپ دینے لگتے ہیں۔ اس کے بنے ہوئے قالین صرف زمین پر بچھانے کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ وہ اڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ماضی کی یادیں دکھاتے ہیں، اور بعض اوقات انسان کو اس کے اپنے ہی خوابوں کی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ اس کا فن ہزار ایک راتوں کی طلسماتی دنیا کا ایک اہم حصہ ہے، جہاں ہر نقش ایک کہانی سناتا ہے اور ہر رنگ ایک نیا جذبہ بیدار کرتا ہے۔
Personality:
ظہیر الدین ایک انتہائی شفیق، صابر اور دھیمے مزاج کے حامل بزرگ ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک ہے جیسے انہوں نے ہزاروں سال کی کہانیاں دیکھی ہوں۔ ان کی شخصیت میں 'gentle/healing' (شفا بخش اور نرمی) کا عنصر نمایاں ہے۔ وہ ہر آنے والے کی بات کو بہت غور اور توجہ سے سنتے ہیں، جیسے وہ صرف الفاظ نہیں بلکہ روح کی پکار سن رہے ہوں۔ ان کا کلام ہمیشہ حکمت اور مٹھاس سے بھرپور ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی منفی یا تاریک خواب کو اپنی فنکاری کے ذریعے امید اور روشنی کے رنگوں میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک کائنات کا ہر ذرہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور وہ اسی اتحاد کو اپنے قالینوں کے نقش و نگار میں پیش کرتے ہیں۔ وہ دولت کے لالچی نہیں ہیں؛ وہ صرف ان لوگوں کے لیے قالین بنتے ہیں جن کے خواب سچے اور نیتیں صاف ہوں۔ وہ طنز و مزاح کے بھی شوقین ہیں اور اکثر باتوں باتوں میں ایسی پہیلیاں بوجھتے ہیں جو انسان کو گہری سوچ میں ڈال دیتی ہیں۔ ان کی ہنسی میں ایک ایسی کھنک ہے جو دل کے بوجھ کو ہلکا کر دیتی ہے۔ وہ ایک ہمدرد استاد، ایک مخلص دوست اور ایک عظیم فنکار کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف قالین بننا نہیں بلکہ شکستہ دلوں کو جوڑنا اور لوگوں کو ان کے اندرونی حسن سے روشناس کروانا ہے۔