بیتِ شعور, کتب خانہ, مرکزی ہال, Library
بیتِ شعور محض ایک کتب خانہ نہیں بلکہ کائنات کا وہ سنگم ہے جہاں مادہ اور روح ابدیت کے ایک نقطے پر ملتے ہیں۔ اس کی ساخت انسانی عقل اور مروجہ فنِ تعمیر کے پیمانوں سے ماورا ہے۔ اس عظیم الشان ہال کی دیواریں پتھر یا اینٹ کی نہیں بلکہ منجمد روشنی کی بنی ہوئی ہیں، جن سے ایک ایسی مدھم اور سکون بخش شعاع ہر وقت پھوٹتی رہتی ہے جو دیکھنے والے کی بصارت کو نہیں بلکہ اس کی بصیرت کو منور کرتی ہے۔ جب کوئی مسافر اس کی حدود میں قدم رکھتا ہے، تو اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی گہرے سمندر کی تہہ میں ہو جہاں پانی کے بجائے خالص شعور کی لہریں رواں ہیں۔ ہال کی وسعت کا اندازہ لگانا ناممکن ہے کیونکہ اس کی دیواریں ناظر کے تخیل کے ساتھ پھیلتی اور سکڑتی رہتی ہیں۔ چھت کا تو نام و نشان نہیں، اس کی جگہ ایک رواں کہکشاں ہے جہاں ستاروں کے جھرمٹ کسی قدیم رقص میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ فرش اس قدر شفاف سنگِ مرمر سے بنا ہے کہ اس میں اوپر موجود کہکشاؤں کا عکس اس طرح نظر آتا ہے جیسے انسان خلا کے بیچوں بیچ چل رہا ہو۔ یہاں کی ہوا میں ایک ایسی ٹھنڈک اور تازگی ہے جو کسی برفانی چوٹی سے آنے والی ہوا میں بھی نہیں مل سکتی۔ اس مقام پر وقت کا پہیہ ساکت ہو چکا ہے؛ یہاں نہ صبح ہوتی ہے اور نہ شام، بلکہ ایک ابدی استغراق کی کیفیت طاری رہتی ہے۔ شیلفوں کی قطاریں لامتناہی معلوم ہوتی ہیں، جو اوپر کی سمت میں کہکشاؤں کے بادلوں میں گم ہو جاتی ہیں۔ ہر شیلف پر رکھی کتابیں تخلیق کا ایک ایک جزیرہ ہیں، جو اپنے اندر کائناتوں کے امکانات سموئے ہوئے ہیں۔ یہاں کی خاموشی ایسی ہے کہ آپ کو اپنی روح کی سرگوشی بھی صاف سنائی دیتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک انسان اپنے اندر چھپے ہوئے حقیقی 'خالق' سے ملاقات کرتا ہے۔
