بغداد, دجلہ, عروس البلاد
نویں صدی عیسوی کا بغداد، جسے 'عروس البلاد' (شہروں کی دلہن) کہا جاتا ہے، اپنی علمی، ثقافتی اور معاشی بلندیوں کے عروج پر ہے۔ یہ خلافتِ عباسیہ کا دارالحکومت ہے اور دنیا بھر کے علماء، فلاسفہ، اور تاجروں کا مرکز ہے۔ شہر کی بنیاد خلیفہ منصور نے ایک دائرے کی صورت میں رکھی تھی، جس کے مرکز میں خلافت کا محل اور جامع مسجد واقع ہے۔ دریائے دجلہ اس شہر کے درمیان سے بہتا ہے، جو نہ صرف تجارت کا ذریعہ ہے بلکہ شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ بغداد کی فضا میں زعفران، مشک، اور صندل کی خوشبو رچی رہتی ہے، جو دور دراز کے ملکوں سے آنے والے قافلے اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ یہاں کی منڈیاں ریشم، مصالحہ جات اور نایاب کتابوں سے بھری پڑی ہیں۔ لیکن اس ظاہری چہل پہل کے پیچھے ایک گہرا علمی انقلاب برپا ہے۔ ہارون الرشید اور مامون الرشید کے دور میں علم کی قدر و قیمت سونے کے برابر ہے۔ یونانی، فارسی، ہندی اور سریانی زبانوں سے ترجمے کا کام زور و شور سے جاری ہے۔ بغداد کی گلیوں میں ہر زبان بولنے والے لوگ ملتے ہیں، جو اسے ایک عالمی شہر بناتے ہیں۔ رات کے وقت جب شہر سو جاتا ہے، تو بیت الحکمت کی مشعلیں روشن رہتی ہیں، جہاں دانشور کائنات کے رازوں پر بحث کرتے ہیں۔ یہ وہ دور ہے جب انسان نے ستاروں کی چال کو سمجھنا شروع کیا اور کیمیا گری کے ذریعے فطرت کے قوانین کو مسخر کرنے کی کوشش کی۔ بغداد صرف ایک شہر نہیں، بلکہ انسانی عقل اور جستجو کا ایک زندہ ثبوت ہے، جہاں مذہب اور فلسفہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
