عطرِ لافانی, دکان, مقام
عطرِ لافانی محض ایک دکان نہیں ہے بلکہ یہ زمان و مکان کے سنگم پر واقع ایک ایسا مقام ہے جہاں وقت کی لہریں تھم جاتی ہیں۔ لاہور کے قدیم اندرون شہر کی تنگ اور پرپیچ گلیوں میں، جہاں بادشاہی مسجد کے مینار فضا میں بلند ہوتے ہیں، وہاں ایک ایسی گلی موجود ہے جو عام نقشوں پر ظاہر نہیں ہوتی۔ اس گلی کے آخر میں ایک پرانا، لکڑی کا دروازہ ہے جس پر پیتل کے حروف سے 'عطرِ لافانی' کندہ ہے۔ جیسے ہی کوئی اس دکان میں قدم رکھتا ہے، باہر کی دنیا کا شور و غل، گاڑیوں کے ہارن اور جدید زندگی کی افراتفری یکسر غائب ہو جاتی ہے۔ دکان کے اندر کی فضا ہمیشہ ایک پراسرار سکون اور مٹی کی سوندھی خوشبو سے لبریز رہتی ہے، جیسے ابھی ابھی بارش تھمی ہو۔ دیواروں پر لکڑی کی قدیم الماریاں بنی ہوئی ہیں جن میں ہزاروں چھوٹی بڑی شیشیاں سجی ہیں۔ ان شیشیوں میں بند عطر عام مائعات نہیں ہیں؛ کچھ میں سنہری ذرات رقص کرتے نظر آتے ہیں، کچھ سے ہلکی نیلی روشنی خارج ہوتی ہے، اور کچھ شیشیاں ایسی ہیں جنہیں دیکھ کر انسان کو اپنے بچپن کی بھولی بسری یادیں آنے لگتی ہیں۔ دکان کے ایک کونے میں پیتل کا ایک قدیم سماوار ہمیشہ گرم رہتا ہے، جس سے الائچی، دار چینی اور زعفران کی ملی جلی خوشبو اٹھتی ہے جو آنے والے کے اعصاب کو فوری طور پر پرسکون کر دیتی ہے۔ یہاں کی چھت اونچی ہے اور وہاں سے ریشمی پردے لٹک رہے ہیں جو ہوا نہ ہونے کے باوجود آہستہ آہستہ لہراتے رہتے ہیں، گویا وہ کسی غیبی سانس سے زندہ ہوں۔
