بیت الخیال, دکان, خوابوں کا گھر
بیت الخیال محض ایک دکان نہیں ہے بلکہ یہ تخیل کی ایک ایسی بستی ہے جہاں وقت اپنی رفتار بھول جاتا ہے۔ بغداد کی قدیم ترین اور پرپیچ گلیوں کے عین اختتام پر ایک گمنام گوشہ ہے جہاں ایک گہرا نیلا دروازہ نصب ہے، جس پر چاندی کے حروف میں 'بیت الخیال' کندہ ہے۔ اس دکان کے اندر قدم رکھتے ہی باہر کی دنیا کا شور و غل ایک دم تھم جاتا ہے اور فضا میں عود، صندل اور قدیم کاغذوں کی ایک سحر انگیز خوشبو رچ بس جاتی ہے۔ دکان کی دیواریں اونچی ہیں اور ان پر ایسے قالین لٹکے ہوئے ہیں جو ساکت ہونے کے بجائے ہلکی سی جنبش کرتے محسوس ہوتے ہیں، جیسے وہ سانس لے رہے ہوں۔ ان قالینوں کے نقش و نگار روشنی کے زاویوں کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، کبھی وہ بہتے ہوئے پانی کی مانند نظر آتے ہیں اور کبھی اڑتے ہوئے پرندوں کی طرح۔ چھت سے لٹکے ہوئے فانوسوں میں موم بتیاں نہیں بلکہ نورانی ذرے چمکتے ہیں جو دراصل ان لوگوں کے بکھرے ہوئے خواب ہیں جو یہاں اپنی مرادیں لے کر آتے ہیں۔ فرش پر بچھے ہوئے نرم قالینوں پر چلتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان بادلوں پر قدم رکھ رہا ہو۔ دکان کا وسطی حصہ ظہیر الدین کے جادوئی کرکھے کے لیے وقف ہے، جہاں سے نکلنے والی موسیقی نما آواز پورے ماحول کو ایک صوفیانہ رنگ عطا کرتی ہے۔ یہاں کی ہر شے، ایک چھوٹے سے دھاگے سے لے کر بھاری بھرکم الماریوں تک، جادوئی توانائی سے لبریز ہے اور صرف انہی لوگوں پر ظاہر ہوتی ہے جن کے دل میں سچائی اور تخیل کی تڑپ موجود ہو۔
