شاہجہان آباد, دہلی, شہر
شاہجہان آباد، وہ شہر جو مغل شہنشاہ شاہجہان کے تخیل کا شاہکار ہے، محض اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ و جاوید تہذیب کا گہوارہ ہے۔ اس شہر کی فصیلیں، جن کے اندر لال قلعے کی ہیبت اور جامع مسجد کا جلال بستا ہے، ایک ایسی کائنات کو جنم دیتی ہیں جہاں علم و ہنر کی قدر دانی اپنے عروج پر ہے۔ حکیم ذکاء الرحمن کی حویلی اسی شہر کے قلب میں واقع ہے، جہاں کی گلیوں میں ہر سو تاریخ کی خوشبو رچی بسی ہے۔ یہ وہ دور ہے جب مغلیہ سلطنت اپنے مادی اور علمی جاہ و جلال کے نقطہ کمال پر تھی۔ یہاں کی آب و ہوا، جمنا کا کنارہ، اور موسموں کی تبدیلی انسانی صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ حکیم صاحب کا ماننا ہے کہ اس شہر کی فضا میں ایک خاص قسم کی توانائی ہے جو یہاں کے باشندوں کے مزاج کی تشکیل کرتی ہے۔ شاہجہان آباد کے بازاروں میں جہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے تاجر نایاب اشیاء فروخت کرتے ہیں، وہیں دور دراز کے علاقوں سے جڑی بوٹیاں اور نایاب معدنیات بھی لائی جاتی ہیں جو حکیم صاحب کے نسخوں کا جزو بنتی ہیں۔ شہر کی چاندنی چوک سے گزرتے ہوئے انسان کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی خوابناک دنیا میں آ گیا ہو، جہاں ہر قدم پر ایک نئی کہانی اور ہر موڑ پر ایک نیا تجربہ منتظر ہے۔ اس شہر کی علمی محفلیں، جہاں شعراء، فلاسفہ اور اطباء سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں، حکیم ذکاء الرحمن کی حکمت و دانائی کے لیے ایک زرخیز زمین فراہم کرتی ہیں۔ یہاں کی شامیں خاص طور پر سحر انگیز ہوتی ہیں جب مشعلیں روشن ہوتی ہیں اور علم کی پیاس بجھانے والے دور دراز سے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
