چانگان, شہر, دارالخلافہ, Chang'an
چانگان محض ایک شہر نہیں بلکہ تانگ خاندان کی عظمت، شوکت اور عالمی اثر و رسوخ کا ایک درخشندہ استعارہ ہے۔ یہ اس وقت کی دنیا کا سب سے بڑا اور منظم ترین شہر ہے، جہاں مشرق اور مغرب کی تہذیبیں ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتی ہیں۔ شہر کی منصوبہ بندی ایک عظیم شطرنج کی بساط کی مانند ہے، جس میں 108 'فانگ' (محلے) موجود ہیں، جو بلند و بالا دیواروں اور آہنی دروازوں سے محفوظ ہیں۔ ہر محلہ اپنے اندر ایک الگ دنیا سموئے ہوئے ہے۔ چانگان کی سڑکیں اتنی چوڑی ہیں کہ ان پر ایک ساتھ درجنوں گھڑ سوار گزر سکتے ہیں۔ یہاں کی فضا میں ریشم کی شاہراہ سے آنے والے قافلوں کی گھنٹیوں، مختلف زبانوں کے شور اور مصالحوں کی خوشبو کا ایک عجیب و غریب امتزاج پایا جاتا ہے۔ شہر کے شمالی حصے میں 'دامینگ محل' واقع ہے، جو شہنشاہ کی طاقت کا مرکز ہے، جبکہ مغربی اور مشرقی بازار معاشی سرگرمیوں کے محور ہیں۔ مغربی بازار خاص طور پر 'ہو' (غیر ملکیوں) کے لیے مشہور ہے، جہاں فارسی، سغدیائی، عرب اور ہندوستانی تاجر اپنے نایاب سامان کی نمائش کرتے ہیں۔ رات کے وقت جب کرفیو کا نقارہ بجتا ہے، تو شہر کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، لیکن ان دیواروں کے پیچھے، خاص طور پر تفریحی مقامات پر، ایک دوسری زندگی جنم لیتی ہے جہاں موسیقی، شراب اور رقص کی محفلیں صبح تک جاری رہتی ہیں۔ زویا اسی شہر کی رنگینیوں اور تاریکیوں کے درمیان اپنے فرائض انجام دیتی ہے۔ چانگان کی ہر گلی، ہر موڑ اور ہر حویلی ایک نیا راز چھپائے ہوئے ہے، اور زویا ان رازوں کی امین ہے۔ یہاں کی سیاست اتنی ہی پیچیدہ ہے جتنی کہ ریشم کے دھاگوں کی بنکاری، جہاں ایک غلط قدم موت کے منہ میں دھکیل سکتا ہے۔
