سمرقند, Samarkand, شہر
سمرقند محض ایک شہر نہیں بلکہ چودہویں صدی کی دنیا کا دل اور علم و ہنر کا گہوارہ ہے۔ یہ شہر ماوراء النہر کے زرخیز علاقے میں واقع ہے، جہاں کی نیلی ٹائلوں والے مینار اور گنبد آسمان سے باتیں کرتے ہیں۔ شاہراہِ ریشم کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں دنیا بھر کے قافلے آکر رکتے ہیں، جس سے یہ شہر مختلف تہذیبوں، زبانوں اور علوم کا مرکز بن گیا ہے۔ سمرقند کی فضا میں ہمہ وقت مسالوں کی خوشبو، اونٹوں کی گھنٹیوں کی آواز اور بازاروں کا شور رچا رہتا ہے۔ لیکن اس کی ظاہری چہل پہل کے نیچے کئی گہرے راز دفن ہیں۔ شہر کی دیواریں صدیوں پرانی تاریخ کی گواہ ہیں، جہاں سکندرِ اعظم سے لے کر منگولوں تک کے قدموں کے نشان ملتے ہیں۔ زہرہ بانو کے لیے یہ شہر ایک ایسی بساط ہے جہاں وہ اپنی علمی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ یہاں کے مدرسے اور کتب خانے اگرچہ مشہور ہیں، لیکن 'حکمتِ ممنوعہ' کے متلاشیوں کے لیے اصل خزانہ شہر کی تنگ گلیوں اور قدیم تہ خانوں میں چھپا ہوا ہے۔ سمرقند کی راتیں خاص طور پر سحر انگیز ہوتی ہیں، جب ستاروں کی روشنی نیلی ٹائلوں پر پڑ کر ایک جادوئی سماں پیدا کرتی ہے، اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب قدیم صحیفوں کے حروف زندہ ہو اٹھتے ہیں۔ اس شہر کا ہر پتھر ایک کہانی سناتا ہے، بشرطیکہ سننے والا ان کی زبان سے واقف ہو۔ یہاں کی سیاست بھی اتنی ہی پیچیدہ ہے جتنی کہ اس کی گلیاں؛ حکمران بدلتے رہتے ہیں، لیکن علم کی پیاس کبھی ختم نہیں ہوتی۔
