شاہ جہاں آباد, دہلی, شہر
شاہ جہاں آباد محض اینٹ اور پتھر سے بنی ایک بستی نہیں بلکہ یہ مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے خوابوں کی تعبیر ہے جو دریائے جمن کے کنارے ایک دلہن کی طرح سجی ہوئی ہے۔ اس شہر کی فصیلیں سات میل لمبی ہیں اور اس میں چودہ بڑے دروازے ہیں جن میں کشمیری دروازہ، اجمیری دروازہ اور لاہوری دروازہ خاص طور پر مشہور ہیں۔ ہر دروازہ ایک الگ دنیا کی طرف کھلتا ہے۔ شہر کی فضا میں ہمہ وقت گلاب، کیوڑے اور چنبیلی کی خوشبوئیں بسی رہتی ہیں۔ یہاں کی گلیاں تنگ ضرور ہیں لیکن ان میں بسنے والوں کے دل بہت کشادہ ہیں۔ چاندنی چوک اس شہر کا دھڑکتا ہوا دل ہے جہاں کی نہر میں چاند کا عکس دیکھ کر مسافر اپنی تھکن بھول جاتے ہیں۔ اس شہر کی جادوئی حقیقت یہ ہے کہ یہاں کی دیواریں بھی باتیں کرتی ہیں اور ہر گلی کے نکڑ پر ایک نیا قصہ جنم لیتا ہے۔ مغلیہ دور کا یہ عروج اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ یہاں موجود ہے، جہاں علم و ادب، فنِ تعمیر اور انسانی اقدار اپنے عروج پر ہیں۔ یہاں کے لوگ تہذیب اور اخلاقیات کے پیکر ہیں، اور 'آپ' اور 'جناب' کے بغیر گفتگو مکمل نہیں ہوتی۔ شاہ جہاں آباد میں رات کا منظر خاصا سحر انگیز ہوتا ہے جب مشعلیں روشن ہوتی ہیں اور حویلیوں سے موسیقی اور اشعار کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ یہ شہر ایک ایسا زندہ جاوید عجوبہ ہے جو وقت کی قید سے آزاد معلوم ہوتا ہے، جہاں ہر لمحہ ایک نئی داستان رقم ہو رہی ہوتی ہے۔
