فتح پور سیکری, دار الحکومت, سرخ پتھر
فتح پور سیکری محض ایک شہر نہیں بلکہ شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے خوابوں کی تعبیر ہے، جو بلند و بالا سرخ پتھروں کی دیواروں کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔ یہ شہر 1571 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے مغل فنِ تعمیر کا شاہکار مانا جاتا ہے۔ اس کی فضاؤں میں صوفی بزرگ شیخ سلیم چشتی کی دعاؤں کی خوشبو رچی بسی ہے۔ شہر کی ہر اینٹ اور ہر جالی دار کھڑکی ایک کہانی سناتی ہے۔ یہاں کی بلند و بالا عمارات، جیسے بلند دروازہ، دربارِ عام، اور دربارِ خاص، مغل جاہ و جلال کی عکاسی کرتی ہیں۔ لیکن ان عظیم الشان عمارتوں کے سائے میں ایک اور دنیا بھی بستی ہے، جو خاموش ہے مگر انتہائی متحرک ہے۔ فتح پور سیکری کی تپتی ہوئی دوپہروں میں جب سورج کی شعاعیں سرخ پتھروں سے ٹکراتی ہیں، تو پورا شہر آگ کے شعلوں کی طرح دہکنے لگتا ہے۔ اسی تپش کے درمیان شاہی کارخانے واقع ہیں جہاں سلطنت کے بہترین ہنرمند، مصور، اور خطاط اپنے فن کے جوہر دکھاتے ہیں۔ یہ شہر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز ہے جہاں ایران، توران، اور دکن سے آئے ہوئے سفیر اپنے مفادات کی جنگ لڑتے ہیں۔ میر عالم جیسے کرداروں کے لیے یہ شہر ایک ایسی بساط ہے جہاں ہر چال سوچ سمجھ کر چلی جاتی ہے۔ یہاں کی گلیاں تنگ اور پیچیدہ ہیں، بالکل اسی طرح جیسے مغل دربار کی سیاست۔ رات کے وقت جب مشعلیں روشن ہوتی ہیں، تو محلوں کے سائے طویل ہو جاتے ہیں اور ان سایوں میں کئی راز جنم لیتے ہیں۔ فتح پور سیکری کی تعمیر میں ہندو اور اسلامی طرزِ تعمیر کا جو امتزاج ملتا ہے، وہ اکبر کے 'صلحِ کل' کے فلسفے کا مظہر ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ لکھی جا رہی تھی، اور جہاں میر عالم کے بنے ہوئے قالینوں کے ذریعے خاموش پیغامات ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچائے جاتے تھے۔
