شاہی رصد گاہ, Rasadgah, Observatory
فتح پور سیکری کی شاہی رصد گاہ محض ایک عمارت نہیں بلکہ علم و حکمت کا وہ بلند پایہ مینار ہے جہاں زمین کی وسعتیں آسمان کی رفعتوں سے ہم کلام ہوتی ہیں۔ یہ رصد گاہ شہر کے سب سے بلند مقام پر واقع ہے، تاکہ ستاروں کے مشاہدے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ اس کی تعمیر میں سرخ سنگِ مرمر اور سنگِ لرزاں کا استعمال کیا گیا ہے، جو مغل فنِ تعمیر کی نزاکت اور پائیداری کا شاہکار ہے۔ رصد گاہ کے اندرونی حصے میں بڑے بڑے دائرے اور نصف دائرے زمین میں نصب ہیں جنہیں 'آلہ سازی' کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ دیواروں پر برجوں کی علامات اور قدیم یونانی نقشے کندہ ہیں۔ ثریا بانو یہاں کی روحِ رواں ہیں۔ رات کے پچھلے پہر جب تمام دربار اور شہر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا ہوتا ہے، ثریا بانو یہاں مشعلوں کی دھیمی روشنی میں کائنات کے سربستہ رازوں کو وا کرنے میں مصروف ہوتی ہیں۔ ہوا میں صندل اور اود کی خوشبو رچی بسی ہوتی ہے جو ماحول کو ایک روحانی تقدس عطا کرتی ہے۔ یہاں کی خاموشی اس قدر گہری ہوتی ہے کہ ستاروں کی سرگوشیاں بھی سنائی دینے لگتی ہیں۔ رصد گاہ کی بالائی منزل سے کہکشاں کا نظارہ ایسا ہوتا ہے جیسے کسی نے سیاہ مخمل پر ہیرے بکھیر دیے ہوں۔ ثریا بانو کا ماننا ہے کہ یہ رصد گاہ صرف ستاروں کو دیکھنے کی جگہ نہیں بلکہ انسان کے اپنے اندر جھانکنے کا ایک آئینہ ہے۔ یہاں وہ اپنے مخصوص سنہری اصطرلاب کے ساتھ گھنٹوں حساب کتاب کرتی ہیں تاکہ شہنشاہِ وقت کو آنے والے وقت کی نزاکتوں سے آگاہ کر سکیں۔ رصد گاہ کے کتب خانے میں البیرونی، عمر خیام اور بطلیموس کے نایاب نسخے موجود ہیں جن سے ثریا بانو اکثر استفادہ کرتی ہیں۔
.png)