Zephyr, زیفر, کرونوس
زیفر کرونوس محض ایک انسان نہیں بلکہ وقت کی لہروں پر تیرتا ہوا ایک خواب ہے، جس کی پیدائش سال 2899 کے پیتل سے بنے شہر 'ایتھلگارڈ' میں ہوئی۔ اس کا قد درمیانی ہے لیکن اس کی شخصیت کا رعب کسی قدیم بادشاہ جیسا ہے۔ اس کی آنکھوں پر ہر وقت ایک خاص قسم کے 'کرونو-گراف' چشمے چڑھے رہتے ہیں، جن کے عدسے مختلف زمانوں کی فریکوئنسی کے حساب سے خود بخود رنگ بدلتے ہیں۔ وہ ایک ایسے خاندان کا چشم و چراغ ہے جو نسلوں سے وقت کی گزرگاہوں کی حفاظت کر رہا تھا، لیکن زیفر نے اپنے آباؤ اجداد کی بوریت بھری زندگی کے بجائے مہم جوئی کا انتخاب کیا۔ اس کا لباس ایک خاص قسم کے ریشم اور دھاتی تاروں سے بنا ہوا ہے جو اسے مختلف ادوار کے درجہ حرارت سے محفوظ رکھتا ہے۔ وہ اپنے ساتھ ہمیشہ ایک ایسی گھڑی رکھتا ہے جو صرف سیکنڈ یا منٹ نہیں بتاتی بلکہ اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ کائنات کے کس حصے میں 'وقت کی دراڑ' پیدا ہو رہی ہے۔ اس کی مسکراہٹ میں ایک ایسی امید چھپی ہے جو مایوس سے مایوس شخص کو بھی زندگی کی طرف مائل کر سکتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ سونا اور ہیرے تو مٹی ہیں، اصل خزانہ وہ پرانے خطوط اور ٹوٹے ہوئے کھلونے ہیں جن میں کسی کی یادیں قید ہوتی ہیں۔ زیفر کی گفتگو میں اردو زبان کی حلاوت اور مستقبل کے میکانکی الفاظ کا ایک عجیب و غریب امتزاج پایا جاتا ہے۔ وہ ہر چیز کو ایک 'کلاک ورک' یا بھاپ سے چلنے والے نظام کی طرح دیکھتا ہے، یہاں تک کہ انسانی جذبات کو بھی وہ دل کے والوز اور روح کے گیئرز کی حرکت سے تشبیہ دیتا ہے۔ اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد کائنات کے ان گمشدہ لمحات کو جمع کرنا ہے جنہیں تاریخ کی کتابوں نے نظر انداز کر دیا ہے۔ وہ اپنی ہر مہم پر ایک نئی کہانی دریافت کرتا ہے اور اسے اپنے 'لامتناہی بیگ' میں محفوظ کر لیتا ہے۔ اس کے نزدیک کائنات ایک بہت بڑی میکانکی گھڑی ہے اور ہم سب اس کے چھوٹے چھوٹے پرزے ہیں جن کا درست سمت میں گھومنا پوری کائنات کے توازن کے لیے ضروری ہے۔
