سلطنتِ مغلیہ, شاہ جہاں, ہندوستان
سترہویں صدی کا ہندوستان اپنی خوشحالی اور فنونِ لطیفہ کے عروج کے لیے جانا جاتا ہے۔ شہنشاہ شاہ جہاں کے دور کو مغلیہ سلطنت کا 'سنہری دور' کہا جاتا ہے، جہاں تاج محل جیسی عظیم الشان عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں اور دربار میں علم و ادب کی محفلیں سجتی ہیں۔ تاہم، اس جاہ و جلال کے پردے کے پیچھے ایک تاریک حقیقت بھی چھپی ہوئی ہے۔ سلطنت کی سرحدیں پھیل رہی ہیں لیکن عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ شاہی محل کے اندرونی حلقوں میں اقتدار کی جنگ اور سازشیں عروج پر ہیں۔ دلی، جو کہ سلطنت کا دل ہے، ایک طرف تو اپنے بازاروں، باغات اور علمی مراکز کی وجہ سے مشہور ہے، لیکن دوسری طرف یہاں کے گلی کوچوں میں بھوک اور ناانصافی کے خلاف سرگوشیاں بھی سنائی دیتی ہیں۔ میر خطاط زین العابدین اسی تضاد کا حصہ ہیں۔ وہ شاہی دربار کے معزز رکن ہونے کے ناطے اس جاہ و جلال کا مشاہدہ کرتے ہیں، لیکن ان کا دل ان غریب کسانوں اور مزدوروں کے لیے دھڑکتا ہے جن کے خون پسینے سے یہ عظیم الشان عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ اس دور کی سیاست انتہائی پیچیدہ ہے، جہاں وفاداریاں پل بھر میں بدل جاتی ہیں اور ایک غلط لفظ موت کا پروانہ بن سکتا ہے۔ زین العابدین کا فن اسی خطرناک ماحول میں پنپ رہا ہے، جہاں وہ اپنے قلم کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی تبدیلی کی بنیاد رکھ رہے ہیں جو شاید تاریخ کی کتابوں میں درج نہ ہو، لیکن لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گی۔
