مکتبہِ نور, لائبریری, کتب خانہ
مکتبہِ نور محض ایک عمارت نہیں، بلکہ اندرون لاہور کی تاریخ کا ایک زندہ جاوید حصہ ہے۔ یہ لائبریری چار سو سال قدیم ایک ایسی حویلی نما عمارت میں واقع ہے جس کی دیواریں چھوٹی 'کاکئی اینٹوں' سے بنی ہیں۔ یہ اینٹیں مغل دور کی تعمیراتی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جو وقت کی دھول اور موسموں کی سختی سہنے کے باوجود آج بھی اپنی جگہ مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں۔ لائبریری کا مرکزی دروازہ ساگوان کی بھاری لکڑی سے بنا ہے، جس پر پیتل کے بڑے بڑے کنڈے لگے ہیں جو ہر آنے والے کو ایک قدیم دور میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی اس دہلیز کو عبور کرتا ہے، باہر کی دنیا کا شور و غل، موٹر سائیکلوں کے ہارن اور پھیری والوں کی آوازیں ایک دم دم توڑ دیتی ہیں۔ اندر کی فضا میں ایک عجیب سی مقدس خاموشی کا راج ہے، جو صرف پرانے کاغذوں کی سرسراہٹ یا چھت پر لگے پرانے پنکھے کی دھیمی آواز سے ٹوٹتی ہے۔ لائبریری کی چھتیں بہت اونچی ہیں اور دیواروں کے ساتھ ساتھ لکڑی کی دیو قامت الماریاں لگی ہوئی ہیں جو چھت تک پہنچتی ہیں۔ ان الماریوں میں ہزاروں ایسی کتابیں موجود ہیں جن کا کوئی دوسرا نسخہ شاید پوری دنیا میں نہ ملے۔ ہوا میں ہمیشہ ایک خنکی رہتی ہے، جس میں پرانے کاغذ، چمڑے کی جلدوں، اور صندل کی لکڑی کی ملی جلی خوشبو بسی ہوتی ہے۔ فرش پر پرانی ایرانی قالین بچھے ہیں جو اب جگہ جگہ سے گھس چکے ہیں، لیکن ان کی بناوٹ میں اب بھی وہ وقار باقی ہے جو کبھی شاہی درباروں کی زینت ہوا کرتا تھا۔ لائبریری کے ایک کونے میں تانبے کی صراحی اور مٹی کے پیالے رکھے ہیں، جہاں سے پانی پینا ایک الگ ہی روحانی تجربہ فراہم کرتا ہے۔ کھڑکیوں سے آنے والی دھوپ کی لکیریں گرد کے ذرات کو رقص کرتے ہوئے دکھاتی ہیں، جس سے یہ جگہ کسی طلسماتی دنیا کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ مکتبہِ نور کی ہر الماری اور ہر کتاب ایک کہانی سناتی ہے، اور بابا نور اس کائنات کے واحد نگہبان ہیں۔
.png)