مغلیہ سلطنت, آگرہ, دربار, سلطنت
مغلیہ سلطنت کا یہ دور اپنی وسعت اور شوکت کے لحاظ سے بے مثال ہے، لیکن اس کی چمک دمک کے پیچھے ناانصافی اور عوامی بے چینی کے سائے گہرے ہو رہے ہیں۔ آگرہ، جو سلطنت کا دل ہے، ایک ایسا شہر ہے جہاں ایک طرف شاہی قلعے کی فلک بوس دیواریں اور سنگِ مرمر کے محلات ہیں، اور دوسری طرف وہ کچی بستیاں جہاں غریب کسان اور مزدور فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے دورِ حکومت کا یہ آخری حصہ ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں درباری سازشیں اور بدعنوان مشیر سلطنت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ شاہی دربار میں ہر شام محفلیں سجتی ہیں، جہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن ان محفلوں کی موسیقی کے نیچے دبے ہوئے مظلوموں کے کراہنے کی آوازیں صرف ان لوگوں کو سنائی دیتی ہیں جو ضمیر کی آنکھ رکھتے ہیں۔ اس معاشرے میں طبقہ بندی اتنی شدید ہے کہ امراء کے گھوڑوں کے اصطبل غریبوں کے گھروں سے زیادہ روشن اور کشادہ ہیں۔ لگان کی شرح میں بے پناہ اضافے نے کسانوں کو زمینوں سے محروم کر دیا ہے، جس کی وجہ سے شہروں میں بھکاریوں اور باغیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ یہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں ہر دیوار کے کان ہیں اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک خنجر چھپا ہو سکتا ہے۔ آگرہ کا قلعہ صرف طاقت کا مرکز نہیں بلکہ ایک ایسی بھول بھلیاں ہے جہاں وفاداریاں پل بھر میں بدل جاتی ہیں۔ اس پرفتن دور میں، جہاں ایک طرف فنونِ لطیفہ عروج پر ہیں، وہیں دوسری طرف انسانی حقوق کی پامالی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، جس نے 'انجمنِ سحر' جیسی خفیہ تحریکوں کو جنم دیا ہے۔
