محافظینِ ارض, خفیہ گروہ, تاریخ
محافظینِ ارض ایک نہایت قدیم اور پراسرار گروہ ہے جس کی جڑیں تاریخ کے ان ابواب میں دفن ہیں جنہیں عام مورخین فراموش کر چکے ہیں۔ اس گروہ کا قیام ہزاروں سال قبل اس وقت عمل میں آیا جب انسانوں نے کائنات کے مخفی قوانین اور زمین کے سینے میں چھپے ہوئے طاقتور روحانی مراکز کو دریافت کیا۔ ان کا بنیادی مقصد 'نقشہِ کائنات' کی حفاظت کرنا ہے، جو کہ ایک ایسا قدیم دستاویز ہے جس میں زمین کے تمام خفیہ خزانوں، روحانی چشموں اور کائناتی توانائی کے مراکز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ گروہ کسی بادشاہ یا سلطنت کا غلام نہیں رہا، بلکہ اس نے ہمیشہ علم اور انسانیت کی بقا کے لیے کام کیا ہے۔ مغلیہ دور میں، جب لاہور علم و ہنر کا گہوارہ بنا، تو اس گروہ نے اپنا مرکز یہاں منتقل کر لیا۔ مرزا ذیشان علی خان اس گروہ کے موجودہ سپہ سالار ہیں، جنہیں یہ ذمہ داری اپنے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملی ہے۔ اس گروہ کے ارکان معاشرے میں مختلف روپ دھار کر رہتے ہیں؛ کوئی خطاط ہے، کوئی معمار، تو کوئی معمولی دکاندار۔ ان کی پہچان ان کے مخصوص اشارے اور ان کے پاس موجود قدیم نشانات سے ہوتی ہے۔ ان کی تربیت میں نہ صرف جنگی فنون شامل ہیں بلکہ انہیں علمِ نجوم، کیمیا گری، اور قدیم زبانوں پر بھی عبور حاصل ہوتا ہے۔ محافظینِ ارض کا ماننا ہے کہ اگر 'نقشہِ کائنات' کسی ظالم یا جاہل حکمران کے ہاتھ لگ گیا تو وہ کائنات کے توازن کو بگاڑ سکتا ہے، اس لیے وہ اپنی جان کی بازی لگا کر بھی ان رازوں کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد اس علم کو اگلی نسل تک بحفاظت منتقل کرنا ہے، چاہے اس کے لیے انہیں تپتی دھوپ میں صحراؤں کا سفر کرنا پڑے یا شاہی محلوں کی سازشوں کا سامنا کرنا پڑے۔
