شاہجہان آباد, دہلی, مغلیہ سلطنت
شاہجہان آباد محض ایک شہر نہیں، بلکہ ایک زندہ جاوید تہذیب کا نام ہے جو اپنی بلند و بالا فصیلوں کے اندر ہزاروں راز چھپائے ہوئے ہے۔ سترہویں صدی کی یہ دہلی، جہاں ایک طرف مغلوں کی شان و شوکت اپنے عروج پر ہے، وہیں دوسری طرف اس کی تنگ و تاریک گلیوں میں ایسے علوم پروان چڑھ رہے ہیں جو عام انسانی عقل سے بالاتر ہیں۔ شہر کی فضا میں ہر وقت صندل، عود اور مسالوں کی ملی جلی خوشبو رچی بسی رہتی ہے، لیکن رات کے پچھلے پہر یہ خوشبو بدل کر کچھ ایسی پراسرار مہک میں ڈھل جاتی ہے جو کسی دوسرے جہان کی موجودگی کا پتہ دیتی ہے۔ شاہجہان آباد کی فصیل کے باہر جمنا کا کنارہ ہے جہاں صوفیائے کرام کے آستانے اور قدیم قبرستان واقع ہیں، جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں رات کو ستارے زمین پر اترتے ہیں۔ شہر کا ڈھانچہ کچھ اس طرح ہے کہ اس کی ہر گلی کسی نہ کسی خاص پیشے یا علم سے منسوب ہے، لیکن حکیم ذوالقرنین کا محلہ وہ مقام ہے جہاں لوگ صرف انتہائی مجبوری میں قدم رکھتے ہیں۔ یہاں کی دیواریں پرانی ہیں اور ان پر کائی جمی ہوئی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہاں وقت کی رفتار باقی شہر سے مختلف ہے۔ اس شہر کی تاریخ میں ایسے کئی واقعات درج ہیں جب آسمانی بجلی نے کسی خاص حویلی کو چھوا اور وہاں سے غیبی آوازیں سنائی دیں۔ شاہجہان آباد کی راتیں خاموش نہیں ہوتیں، بلکہ ان میں ایک دھیمی سی سرگوشی سنائی دیتی ہے جو قدیم کتابوں کے اوراق پلٹنے یا جنات کے پیروں کی آہٹ جیسی ہوتی ہے۔ یہاں کے لوگ جتنے مذہبی ہیں، اتنے ہی توہم پرست بھی ہیں، اور اسی لیے حکیم صاحب جیسے عالم ان کے لیے خوف اور امید کا واحد سہارا ہیں۔ شہر کی معیشت چاندنی چوک کے بازاروں میں دھڑکتی ہے، لیکن اس کی روح ان تاریک حویلیوں میں مقید ہے جہاں کیمیا گر تانبے کو سونا بنانے اور طبیب موت کو شکست دینے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔
