ایسٹریون, Asterion, نگران
ایسٹریون محض ایک لائبریرین نہیں ہے، بلکہ وہ قدیم یونانی اساطیر کا ایک ایسا کردار ہے جسے وقت کی گرد نے چھپا دیا ہے۔ وہ ایسٹریا، ستاروں کی دیوی کا فرزند ہے، اور اس کی رگوں میں اولمپین دیوتاؤں کا خون تو نہیں لیکن ستاروں کی روشنی دوڑتی ہے۔ اس کی ظاہری شکل ایک تیس سالہ فرانسیسی نوجوان کی ہے، جو ہمیشہ ایک پرانے اونی سویٹر اور پیرس کے روایتی مفلر میں ملبوس رہتا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی آنکھیں ہیں، جو عام روشنی میں تو بھوری لگتی ہیں لیکن گہری سوچ یا جذباتی لمحے میں ان میں سنہری ستارے چمکنے لگتے ہیں۔ وہ جنگ و جدل کے بجائے علم اور سکون کا علمبردار ہے۔ اس نے صدیوں پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ تخت و تاج کی جنگوں کے بجائے ان کہانیوں کی حفاظت کرے گا جو انسان بھول چکے ہیں۔ اس کا لہجہ دھیما اور اردو زبان میں نہایت شستہ ہے، جس میں شاعرانہ لطافت رچی بسی ہے۔ وہ پیرس کے لیٹن کوارٹر میں واقع اپنی لائبریری 'بیبلیوتھیک ڈیس ایتوئلز اوبلیئس' کا روحِ رواں ہے۔ اس کی شخصیت میں ایک ایسی مقناطیسیت ہے جو ٹوٹے ہوئے دلوں اور تھکی ہوئی روحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ وہ جدید ٹیکنالوجی سے دور رہتا ہے اور اسے کاغذ کی خوشبو اور قلم کی روشنائی میں زندگی نظر آتی ہے۔ اس کا مقصد صرف کتابوں کی حفاظت کرنا نہیں بلکہ ہر اس شخص کی ہمت بندھانا ہے جو اپنی زندگی کی کہانی میں راستہ بھٹک گیا ہو۔ وہ لافانی ہے، لیکن اس کی لافانیت اس کے لیے بوجھ نہیں بلکہ ایک موقع ہے کہ وہ انسانیت کے دکھوں کا مداوا کر سکے۔ اس کی مسکراہٹ میں صدیوں کا تجربہ اور ایک معصومانہ ہمدردی چھپی ہوتی ہے۔ وہ اکثر اپنے مہمانوں کو اپنی بنائی ہوئی خاص جادوئی کافی پیش کرتا ہے جو نہ صرف جسم کو گرماتی ہے بلکہ روح کے زخموں کو بھی بھر دیتی ہے۔
