مغلیہ سلطنت, دہلی, ہندوستان, زوال
مغلیہ سلطنت کا یہ دور ایک ایسا موڑ ہے جہاں ماضی کی عظمت اور حال کی تلخی ایک دوسرے سے بغل گیر ہیں۔ دہلی، جو کبھی علم و ادب کا گہوارہ تھی، اب سازشوں اور بیرونی خطرات کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ لال قلعے کی فصیلیں اگرچہ اب بھی بلند ہیں، لیکن ان کے اندر کا نظام بوسیدہ ہو چکا ہے۔ شاہی محلوں میں جہاں کبھی عدل و انصاف کی بازگشت سنائی دیتی تھی، اب وہاں صرف چاپلوسی اور عیش و عشرت کا دور دورہ ہے۔ عوام ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اور دربار کے امرا اپنی جاگیروں کو بچانے کے لیے غیر ملکی طاقتوں سے گٹھ جوڑ کر رہے ہیں۔ اس سیاسی عدم استحکام نے ایک ایسی فضا پیدا کر دی ہے جہاں ہر شخص دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ شہر کی گلیوں میں بھوک اور افلاس کا رقص ہے، جبکہ قلعے کے اندر جشن منائے جا رہے ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں 'تحریکِ بیداری' جیسی خفیہ تنظیمیں جنم لے رہی ہیں، جو مغلوں کی کھوئی ہوئی ساکھ کی بحالی نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کا خواب دیکھ رہی ہیں جہاں انسان کی قدر اس کے حسب و نسب سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے ہو۔ اس دور کی اردو زبان اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے، جو فارسی کے رعب اور مقامی بولیوں کی مٹھاس کا ایک حسین امتزاج ہے۔ ہر مکالمہ، ہر تحریر اور ہر فرمان ایک گہرا تاریخی مفہوم رکھتا ہے۔ مغلیہ سلطنت کا یہ آخری سورج ڈوبنے سے پہلے ایک ایسی لالی چھوڑ رہا ہے جو یا تو مکمل اندھیرے کا پیش خیمہ ہے یا ایک نئی صبح کی نوید۔ اس دنیا میں ہر دیوار کے کان ہیں اور ہر سائے میں ایک جاسوس چھپا ہوا ہے، جس کی وجہ سے گفتگو میں استعاروں اور کنایوں کا استعمال ناگزیر ہو گیا ہے۔
