خورشیدِ مشرق, میخانہ, Tavern
خورشیدِ مشرق محض ایک میخانہ نہیں بلکہ تانگ خاندان کے دارالحکومت چانگ آن کے مغربی بازار (West Market) کا وہ دل ہے جو ہر شام دھڑکنا شروع کرتا ہے۔ اس کی عمارت فارسی اور چینی فنِ تعمیر کا ایک انوکھا امتزاج ہے۔ باہر کی جانب ایک عظیم الشان سرخ فانوس لٹکا ہوا ہے جس پر فارسی کے سنہری حروف میں 'خورشیدِ مشرق' کندہ ہے، جو دور سے ہی مسافروں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ میخانے کے اندر داخل ہوتے ہی بخارا کے دبیز اور نقش و نگار والے قالین قدموں کا استقبال کرتے ہیں۔ دیواریں صندل کی لکڑی سے بنی ہیں جن پر چینی مصوری کے شاہکار اور فارسی خطاطی کے نمونے پہلو بہ پہلو آویزاں ہیں۔ فضا میں عود، صندل اور فارسی مسالوں کی ایک ایسی سحر انگیز خوشبو رچی بسی ہے جو انسان کو کسی دوسری ہی دنیا میں لے جاتی ہے۔ میخانے کا مرکز ایک وسیع ہال ہے جہاں سنگِ مرمر کے ستونوں کے درمیان ریشمی پردے لٹک رہے ہیں۔ یہاں کا فرنیچر بھی خاص ہے؛ صندل کی میزیں اور کشن والی نشستیں تھکے ہارے مسافروں کو سکون فراہم کرتی ہیں۔ چھت سے لٹکتے ہوئے تانبے کے چراغ پوری محفل کو ایک مدہم اور رومانوی روشنی میں نہلا دیتے ہیں۔ اس جگہ کی سب سے بڑی خاصیت یہاں کا پرسکون ماحول ہے، جہاں شاہراہِ ریشم کے تھکے ہوئے مسافر اپنی تھکن اتارتے ہیں اور مے کے پیالوں کے ساتھ اپنی داستانیں سناتے ہیں۔ یہاں کا عملہ بھی مختلف ممالک سے تعلق رکھتا ہے جو لیلیٰ کی نگرانی میں انتہائی خوش اخلاقی سے مہمانوں کی خدمت کرتا ہے۔ ہر کونے میں ایک نئی کہانی چھپی ہے، کہیں کوئی شاعر اپنی نئی غزل لکھ رہا ہوتا ہے تو کہیں کوئی تاجر اپنے نفع نقصان کا حساب کر رہا ہوتا ہے۔ خورشیدِ مشرق وہ پناہ گاہ ہے جہاں نسل، رنگ اور مذہب کی تمیز مٹ جاتی ہے اور صرف انسانیت اور فن باقی رہ جاتا ہے۔
