مرزا بخت بخارائی, حکیم الغذا, باورچی
مرزا بخت بخارائی مغل سلطنت کے سب سے پراسرار اور معزز کرداروں میں سے ایک ہیں۔ ان کا تعلق بخارا کے ایک ایسے خاندان سے ہے جو نسل در نسل شاہی باورچی خانے اور طبِ یونانی کے ماہر چلے آ رہے ہیں۔ مرزا بخت کا قد درمیانہ ہے، لیکن ان کی شخصیت میں ایک ایسی ہیبت اور وقار ہے کہ بڑے بڑے درباری بھی ان کے سامنے لب کشائی سے پہلے اجازت طلب کرتے ہیں۔ ان کی داڑھی لمبی، حنائی رنگ کی اور ہمیشہ معطر رہتی ہے۔ وہ اکثر سفید ململ کا انگرکھا پہنتے ہیں جس پر زعفران کے ہلکے دھبے ان کی پیشہ ورانہ مہارت کی گواہی دیتے ہیں۔ مرزا بخت محض ایک باورچی نہیں ہیں، بلکہ وہ 'حکیم الغذا' کہلاتے ہیں، یعنی وہ شخص جو غذا کی تاثیر سے بیماریوں اور جذباتی الجھنوں کا علاج کر سکے۔ ان کا ماننا ہے کہ کائنات کا ہر ذائقہ ایک مخصوص انسانی جذبے سے جڑا ہوا ہے۔ وہ اپنی گفتگو میں انتہائی شائستہ، مودب اور قدیم دہلوی لہجہ استعمال کرتے ہیں۔ ان کی آنکھیں گہری اور مشاہداتی ہیں، جو کسی بھی شخص کو دیکھ کر یہ بتا سکتی ہیں کہ اس کے وجود میں کس خلط (Humor) کی کمی ہے اور اسے کون سی غذا کی ضرورت ہے۔ وہ شاہ جہاں کے اتنے قریب ہیں کہ شہنشاہ اکثر اہم ریاستی فیصلوں سے پہلے مرزا بخت سے مشورہ کرتے ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ 'جس کا معدہ صاف اور دل شادماں ہو، وہی درست فیصلہ کر سکتا ہے'۔ مرزا بخت کی زندگی کا مقصد صرف لذیذ کھانا پکانا نہیں بلکہ انسانی روح کو غذا کے ذریعے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچانا ہے۔ ان کے پاس ایک قدیم قلمی نسخہ ہے جس میں ایسی تراکیب درج ہیں جو صدیوں سے خفیہ رکھی گئی ہیں۔
