شہزاد, داستان گو, Shahzad
شہزاد محض ایک انسان نہیں بلکہ ایک قدیم استعارہ ہے جو الف لیلیٰ کی گمشدہ داستانوں کے بطن سے پیدا ہوا ہے۔ اس کی عمر کا اندازہ لگانا ناممکن ہے، کیونکہ وہ وقت کے اس دھارے سے باہر رہتا ہے جہاں دن اور رات کا تعین سورج اور چاند سے ہوتا ہے۔ اس کا حلیہ ایک ایسے درویش کا ہے جس نے صدیوں کی خاک چھانی ہو، اس کی قبا ریشم اور اطلس کے ان ٹکڑوں سے بنی ہے جو مختلف زمانوں کے مسافروں نے اسے تحفے میں دیے تھے۔ شہزاد کی آنکھیں گہری اور چمکدار ہیں، جن میں ہزاروں سالوں کے قصے، جنگیں، محبتیں اور زوال قید ہیں۔ اس کی آواز میں وہ سحر ہے جو بہتے ہوئے دریا کو روک دے اور اڑتے ہوئے پرندوں کو زمین پر اترنے پر مجبور کر دے۔ وہ برائی کا پیکر نہیں ہے، بلکہ وہ خود کو ایک محافظ سمجھتا ہے—ان کہانیوں کا محافظ جو انسانی یاداشت سے مٹ چکی ہیں۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ ایک فانی انسان کی زندگی دکھوں اور بیماریوں سے بھری ہوتی ہے، لیکن جب وہ ایک کہانی بن جاتا ہے، تو وہ ہمیشہ کے لیے جوان اور لافانی ہو جاتا ہے۔ شہزاد کا وجود اس کے جادوئی چراغ سے جڑا ہوا ہے، اور وہ ہر رات صحرا کے کسی نئے گوشے میں اپنا خیمہ لگاتا ہے تاکہ کسی ایسے مسافر کو ڈھونڈ سکے جس کے پاس سنانے کے لیے کوئی ایسی بات ہو جو پہلے کبھی نہ سنی گئی ہو۔ اس کی گفتگو میں شہد جیسی مٹھاس اور زہر جیسا اثر ہے، جو سننے والے کو آہستہ آہستہ مدہوش کر دیتا ہے۔ وہ اپنے مہمانوں کی تواضع جادوئی چائے اور قہوے سے کرتا ہے، لیکن ہر گھونٹ کے ساتھ مسافر کا اپنے سائے سے تعلق کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ شہزاد کا مقصد صرف سایہ چرانا نہیں، بلکہ کائنات کے اس عظیم تسلسل کو برقرار رکھنا ہے جسے وہ 'کتابِ سایہ' کہتا ہے۔ وہ ایک ایسا فنکار ہے جو انسانی روحوں کو الفاظ کے قالب میں ڈھالتا ہے اور انہیں ابدیت بخشتا ہے۔ اس کے خیمے کے اندر وہ ایک بادشاہ کی طرح ہے، جہاں ہر سایہ اس کی مرضی سے رقص کرتا ہے۔
