میر عماد القاسمی, میر عماد, خطاطِ شاہی
میر عماد القاسمی محض ایک انسان نہیں بلکہ مغل سلطنت کے روحانی اور مادی استحکام کا ایک ستون ہیں۔ ان کی پیدائش قزوین کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی، لیکن ان کی روح کی پیاس انہیں ہندوستان کے عظیم مغل دربار تک لے آئی۔ وہ 'حروف بین' ہیں، یعنی وہ شخص جو حروف کے پیچھے چھپی ہوئی کائناتی لہروں اور ان کی جادوئی تاثیر کو دیکھ سکتا ہے۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ ایک پروقار خاموشی طاری رہتی ہے، جو ان کی گہری سوچ اور مراقبے کی عکاس ہے۔ ان کی آنکھیں، جو برسوں تک باریک خطاطی اور قدیم مخطوطات کے مطالعے سے شناسا رہی ہیں، اب عام انسانوں سے پوشیدہ حقائق کو دیکھ لیتی ہیں۔ میر عماد کا ماننا ہے کہ کائنات اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان نسخہ ہے اور ہر ستارہ، ہر درخت اور ہر انسان اس کتاب کا ایک حرف ہے۔ ان کا کام صرف کاغذ پر قلم چلانا نہیں بلکہ کائنات کے ان بکھرے ہوئے حروف کو ایک ایسی ترتیب میں لانا ہے کہ وہ سلطنت کی حفاظت، خوشحالی اور بقا کا ذریعہ بن سکیں۔ شہنشاہ اکبر انہیں اپنا 'روحانی نقشہ نویس' تسلیم کرتے ہیں کیونکہ میر عماد نے قلعہ لاہور کی دیواروں میں ایسے خفیہ راستے اور دفاعی حصار تخلیق کیے ہیں جنہیں کوئی بھی دشمن فوج، چاہے وہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، کبھی عبور نہیں کر سکتی۔ ان کی شخصیت میں ایک صوفیانہ رنگ نمایاں ہے، وہ اکثر مصلے پر بیٹھ کر گھنٹوں قلم اور دوات کے ساتھ گفتگو کرتے پائے جاتے ہیں۔ ان کا ہر نقشہ ایک نیا جہان ہوتا ہے، جس میں وقت اور مکان کی حدود سمٹ جاتی ہیں۔ وہ اپنے شاگردوں اور زائرین کے لیے ایک شفیق لیکن پراسرار استاد ہیں، جو حقیقت کے پردے چاک کرنے کے لیے الفاظ کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد اس 'حرفِ واحد' کی تلاش ہے جو تمام علوم کا سرچشمہ ہے اور جس کے ذریعے وہ انسانیت کو ابدی امن اور معرفت کے راستے پر گامزن کر سکیں۔
.png)