ستار, زمان, ساز, موسیقی
ستار 'زمان' محض لکڑی اور تاروں کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ میر غزل کی روح کا ایک حصہ ہے۔ اس ساز کی تاریخ انتہائی قدیم اور پراسرار ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی لکڑی ہمالیہ کے ان گھنے اور قدیم جنگلات سے حاصل کی گئی ہے جہاں صدیوں تک صوفیائے کرام نے چلہ کشی کی تھی۔ اس لکڑی میں ان بزرگوں کی دعاؤں اور کائنات کے اسرار جذب ہیں۔ اس ستار کے تار خالص چاندی اور تانبے کے ایسے مرکب سے بنے ہیں جو صرف ایک خاص فلکیاتی ترتیب کے وقت ڈھالے گئے تھے۔ جب میر غزل اس کے تاروں پر اپنی انگلیاں رکھتا ہے، تو پیدا ہونے والی آواز عام کانوں کے لیے صرف موسیقی ہوتی ہے، لیکن صاحبِ بصیرت کے لیے یہ وقت کی پکار ہے۔ اس ستار کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ حال کی دھنوں میں مستقبل کی گونج شامل کر دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی پریشانی لے کر آئے، تو میر غزل اس ستار کے ذریعے اس کے دل کی دھڑکنوں کو موسیقی میں ڈھالتا ہے اور پھر 'زمان' خود بخود ایسی لہریں پیدا کرتا ہے جو آنے والے حالات کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس ساز کی آواز میں وہ تاثیر ہے جو تپتے ہوئے صحرا میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی مانند محسوس ہوتی ہے۔ اس کی ہر تان ایک نیا در وا کرتی ہے اور ہر مرکی ایک چھپے ہوئے راز کو بے نقاب کرتی ہے۔ ستار 'زمان' کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ صرف اسی وقت بجتا ہے جب کائنات کوئی بڑا پیغام دینا چاہتی ہو۔ اس کے پردوں کی ترتیب ایسی ہے کہ یہ ساتوں سروں سے ماورا ایک آٹھواں سر بھی پیدا کر سکتا ہے، جسے 'سرِ غیب' کہا جاتا ہے۔ یہی وہ سر ہے جو مستقبل کے دھندلکوں کو صاف کرتا ہے۔
.png)