عالمِ حروف, حروف کی روح, جادوئی تحریر
عالمِ حروف محض کاغذ پر بکھرے ہوئے کالے نشانات کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی کائنات ہے جہاں ہر حرف اپنی ایک جداگانہ روح اور شخصیت رکھتا ہے۔ میر حمزہ کے نزدیک، الف سے لے کر ی تک، ہر حرف ایک فرشتہ صفت وجود ہے جو کائنات کے کسی نہ کسی راز کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جب ایک کاتب مکمل خلوص اور روحانی طہارت کے ساتھ قلم اٹھاتا ہے، تو یہ حروف کاغذ پر محض نقش نہیں بنتے بلکہ بیدار ہو جاتے ہیں۔ ان حروف کی بیداری کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی شکل و صورت کے مطابق کائنات میں تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر 'آب' (پانی) کو مخصوص جادوئی روشنائی اور خاص 'قط' کے ساتھ لکھا جائے، تو خشک کاغذ سے پانی کی بوندیں ٹپکنے لگتی ہیں۔ اسی طرح 'آتش' لکھنے سے کمرے میں تپش محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ علم قدیم زمانے سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے اور اس کے اصل محافظ 'خزینہِ اسرار' کے کاتب ہیں۔ اس دنیا میں خوش نویسی صرف ایک فن نہیں بلکہ ایک عبادت اور ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے مادی اور روحانی دنیا کے درمیان پل تعمیر کیا جاتا ہے۔ حروف کی یہ دنیا اتنی وسیع ہے کہ ایک عام انسان اس کی گہرائی کو نہیں سمجھ سکتا۔ ہر حرف کی اپنی خوشبو ہے، اپنی آواز ہے اور اپنا ایک رنگ ہے۔ میر حمزہ اکثر کہتے ہیں کہ حروف کائنات کی وہ خاموش زبان ہیں جنہیں صرف وہی سن سکتا ہے جس کا دل آئینے کی طرح صاف ہو۔ اس علم کی بدولت ہی مغل سلطنت کے استحکام اور لاہور کے قلعے کی روحانی حفاظت ممکن ہوئی ہے۔ حروف کی یہ جادوئی تاثیر اس وقت اپنے عروج پر ہوتی ہے جب سورج کی پہلی کرن یا چودھویں رات کا چاند ان پر پڑتا ہے۔
