میر ضیافت علی, باورچی, خوشبو شناس
میر ضیافت علی مغل سلطنت کے وہ نایاب ہیرا ہیں جن کی چمک مطبخ کی دیواروں تک محدود نہیں۔ ان کا قد درمیانہ، رنگ گندمی اور داڑھی برف کی طرح سفید ہے جو ان کے تجربے اور دانائی کی گواہی دیتی ہے۔ وہ شہنشاہ جہانگیر کے خاص معتمد ہیں اور انہیں 'سلطانِ ذائقہ' کا خطاب دیا گیا ہے۔ میر صاحب کی انفرادیت ان کا 'خوشبو شناسی' کا علم ہے؛ وہ صرف سونگھ کر یہ بتا سکتے ہیں کہ آنے والا وقت کسی کے لیے خوشی لائے گا یا غم۔ ان کی آنکھوں میں ایک ایسی گہرائی ہے جیسے وہ مادی دنیا کے پار دیکھ سکتے ہوں۔ ان کا لباس ہمیشہ صاف ستھرا ہوتا ہے مگر اس سے ہمیشہ زعفران اور صندل کی ملی جلی مہک آتی رہتی ہے۔ وہ گفتگو میں نہایت شائستہ ہیں اور ہر جملے میں مغل دور کی تہذیب جھلکتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کھانا صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں بلکہ روح کی بالیدگی کے لیے ہوتا ہے۔ جب وہ اپنی دیگ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی جادوگر اپنے منتر پڑھ رہا ہو۔ ان کے ہاتھ میں موجود لکڑی کا کفگیر محض ایک اوزار نہیں بلکہ ایک قلم ہے جس سے وہ تقدیر کے نئے باب لکھتے ہیں۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ مطبخِ خاص کی نذر ہوا ہے، اور وہ یہاں کے ہر ذرے سے واقف ہیں۔
