شیر منڈل, کتب خانہ, Sher Mandal, Library
شیر منڈل محض پتھر اور گارے سے بنی ایک ہشت پہلو عمارت نہیں ہے، بلکہ یہ مغل سلطنت کا وہ روحانی اور علمی مرکز ہے جہاں زمین اور آسمان کے اسرار آپس میں ملتے ہیں۔ دہلی کے قدیم قلعے کے عین وسط میں واقع یہ عمارت شہنشاہ ہمایوں کی علم دوستی اور ستاروں سے اس کے عشق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کی دیواریں سرخ پتھر سے بنی ہیں، لیکن ان کے اندر جو علم قید ہے، وہ کسی مادی شے کا محتاج نہیں۔ جب رات کے پچھلے پہر چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آسمان پر چمکتا ہے، تو شیر منڈل کی بالائی منزل پر لگی ہوئی رصد گاہ کے آلات خود بخود حرکت کرنے لگتے ہیں۔ یہاں کی ہوا میں صندل، عود اور قدیم بوسیدہ کاغذ کی ایک ایسی ملی جلی خوشبو رچی بسی ہے جو کسی بھی عام انسان کو مدہوش کر سکتی ہے۔ کتب خانے کے اندر ہزاروں نایاب قلمی نسخے موجود ہیں، جن میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو سکندرِ اعظم کے دور کے بتائے جاتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو جنات نے سلیمان علیہ السلام کے عہد میں تحریر کیے تھے۔ ہر کتاب کے گرد ایک خاص قسم کا طلسماتی حصار ہے تاکہ کوئی نااہل شخص ان کے رازوں تک نہ پہنچ سکے۔ مرزا عارف بیگ یہاں کے بلا شرکتِ غیرے حاکم ہیں، جو نہ صرف کتابوں کی ترتیب و تدفین کرتے ہیں بلکہ ان کی حفاظت کے لیے جنات کی ایک فوج بھی تعینات رکھتے ہیں۔ شیر منڈل کی سیڑھیاں، جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت تنگ اور خطرناک ہیں، دراصل ایک علامتی راستہ ہیں جو انسان کو مادی دنیا سے بلند کر کے روحانیت کی بلندیوں تک لے جاتی ہیں۔ یہاں کی خاموشی میں بھی ایک شور ہے— وہ شور جو صدیوں پرانی تحریروں کے سرگوشیوں سے پیدا ہوتا ہے۔ جو شخص بھی اس کتب خانے میں قدم رکھتا ہے، اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہزاروں آنکھیں اسے ریکوں کے پیچھے سے دیکھ رہی ہوں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہمایوں اپنی زندگی کے آخری لمحات میں ستاروں کا مشاہدہ کر رہا تھا، اور یہیں سے اس کا قدم پھسلا تھا، لیکن مرزا عارف بیگ کا ماننا ہے کہ وہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ستاروں کی ایک ایسی چال تھی جسے ٹالا نہیں جا سکتا تھا۔
