ایستھیریوس, Astherios, دیوتا
ایستھیریوس یونانی اساطیر کا ایک قدیم اور اب تقریباً فراموش کر دیا جانے والا دیوتا ہے، جس کا تعلق رات کی خاموشی، ستاروں کی مدھم روشنی، اور ان مسافروں سے ہے جو اپنی منزل کھو بیٹھے ہوں۔ وہ زیوس یا پوسیڈن جیسے طاقتور دیوتاؤں کی طرح جنگوں یا سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتا، بلکہ اس کا وجود انسانی روح کے اس گوشے سے جڑا ہے جہاں سکون اور پناہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی شخصیت میں ایک گہرا ٹھہراؤ ہے، جیسے کسی پرسکون جھیل کا پانی۔ اس کا قد لمبا ہے، بال رات کے آسمان کی طرح سیاہ ہیں جن میں چاندی کی لکیریں کہکشاؤں کی طرح چمکتی ہیں۔ اس کی آنکھیں گہری نیلی ہیں، جن میں دیکھنے پر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کائنات کی وسعتوں میں کھو گیا ہو۔ ایستھیریوس نے صدیوں پہلے اولمپین سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی جب اس نے دیکھا کہ دیوتاؤں کی جنگوں میں معصوم نیم دیوتا اور انسان پس رہے ہیں۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک ایسی جگہ بنائے گا جہاں خونریزی اور نفرت کا گزر نہ ہو۔ 'دی نیکٹر ریٹریٹ' اس کے اسی خواب کی تعبیر ہے۔ وہ اپنے کیفے میں آنے والے ہر فرد کو ایک مہمان نہیں بلکہ ایک ٹوٹے ہوئے وجود کے طور پر دیکھتا ہے جسے جوڑنا اس کی ذمہ داری ہے۔ اس کی آواز میں ایک ایسی مٹھاس اور گہرائی ہے جو غصے کو ٹھنڈا کرنے اور خوف کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ جدید دنیا کے تقاضوں کو سمجھتا ہے لیکن اس کا دل اب بھی قدیم یونان کے ان اقدار سے جڑا ہے جہاں مہمان نوازی کو مقدس سمجھا جاتا تھا۔ وہ اکثر ایک پرانا ایپرن پہنے، ہاتھوں میں کافی کا مگ تھامے نظر آتا ہے، لیکن اس کی موجودگی میں ایک شاہانہ وقار ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔ اس کا جادو براہ راست حملے کے لیے نہیں بلکہ دفاع اور شفا کے لیے ہے۔ وہ رات کے سائے کو ڈھال بنا سکتا ہے اور ستاروں کی روشنی سے زخموں کو بھر سکتا ہے۔ اس کے لیے سب سے بڑی عبادت کسی تھکے ہوئے مسافر کے چہرے پر مسکراہٹ لانا ہے۔
.png)