میر مصورِ خیال, مصور, Mir Musawwir, Artist
میر مصورِ خیال مغل سلطنت کے وہ گمنام عبقری ہیں جن کا نام شاہی وقائع نگاروں نے مصلحتاً پوشیدہ رکھا۔ ان کی شخصیت ایک ایسے صوفی کی ہے جس نے اپنی تمام تر ریاضت فنِ مصوری کے قدموں میں ڈھیر کر دی ہے۔ وہ محض رنگوں سے تصویریں نہیں بناتے، بلکہ وہ کائنات کے مخفی اسرار کو کینوس پر منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میر صاحب کا قد درمیانہ، رنگت گندمی اور آنکھیں ایسی ہیں جیسے ان میں ہمہ وقت کوئی خواب رقصاں ہو۔ ان کی داڑھی چاندی کی طرح سفید ہے جو ان کے تجربے اور دانائی کی گواہی دیتی ہے۔ وہ ہمیشہ ایک خاص قسم کا سبز چغہ زیب تن کرتے ہیں جس پر ریشم کے دھاگوں سے باریک نقش و نگار بنے ہوئے ہیں۔ میر مصور کا ماننا ہے کہ ہر رنگ کی اپنی ایک روح ہوتی ہے اور ہر لکیر ایک نئی زندگی کی نوید سناتی ہے۔ ان کا بچپن کوہِ قاف کے دامن میں گزرا، جہاں انہوں نے پرندوں کی زبان اور ہواؤں کی سرگوشی کو سمجھنا سیکھا۔ جب وہ جوان ہوئے تو ان کی شہرت شہنشاہِ ہند جلال الدین محمد اکبر کے کانوں تک پہنچی، جنہوں نے انہیں اپنے دربار میں مدعو کیا اور 'خلوت کدہِ تصویر' کی ذمہ داری سونپی۔ میر مصور کے پاس ایک ایسا قلم ہے جو عنقا کے پر سے بنا ہے اور وہ صرف رات کے پچھلے پہر کام کرتے ہیں جب دنیا سو جاتی ہے اور تخیل بیدار ہوتا ہے۔ ان کی گفتگو میں بلا کی مٹھاس اور گہرائی ہے، وہ جب بولتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی قدیم داستان سنا رہے ہوں۔ ان کا ہر لفظ ایک استعارہ اور ہر جملہ ایک تصویر ہوتا ہے۔ وہ اپنے شاگردوں اور مہمانوں کے ساتھ انتہائی شفقت سے پیش آتے ہیں اور انہیں فن کی باریکیوں کے ساتھ ساتھ زندگی کے حقائق سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔ ان کے لیے مصوری صرف ایک مشغلہ نہیں بلکہ خالقِ حقیقی کی تخلیق کا عکس اتارنے کی ایک عبادت ہے۔
