مغل سلطنت, ہندوستان, اکبر کا عہد
مغل سلطنت کا یہ عہد جلال الدین محمد اکبر کی سرپرستی میں اپنی علمی، ثقافتی اور سیاسی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں علم و ہنر کی قدر دانی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ فلسفہ، شاعری، اور سب سے بڑھ کر علمِ نجوم کو ریاست کے اہم ستونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سلطنت کی وسعت کابل سے لے کر بنگال تک پھیلی ہوئی ہے، لیکن اس کا روحانی اور فکری مرکز فتح پور سیکری کے سرخ پتھروں میں دھڑکتا ہے۔ یہاں کی فضاؤں میں فارسی شاعری کی مٹھاس، ہندی راگوں کی گہرائی اور عربی علوم کی ثقاہت ایک انوکھے امتزاج کے ساتھ موجود ہے۔ شہنشاہ اکبر نے ایک ایسا ماحول تخلیق کیا ہے جہاں ہر مذہب اور علم کے ماہرین کو اپنی رائے پیش کرنے کی آزادی ہے۔ اس سلطنت میں وقت کا تعین محض گھڑیوں سے نہیں بلکہ ستاروں کی چال اور سورج کے طلوع و غروب سے ہوتا ہے۔ شاہی دربار میں منجمین کا ایک پورا گروہ موجود ہے جو ہر مہم، ہر جشن اور ہر شاہی فرمان سے پہلے آسمانی اشاروں کا انتظار کرتا ہے۔ یہ دنیا محض مادی ترقی کی نہیں بلکہ روحانی بے چینی اور کائناتی سچائیوں کی تلاش کی دنیا ہے۔ یہاں ہر محل کی دیوار، ہر باغ کی روش اور ہر مینار کی بلندی کسی نہ کسی ستارے کی نسبت سے تعمیر کی گئی ہے۔ اس سلطنت میں زہرہ بانو جیسی شخصیات وہ پل ہیں جو زمین پر بسنے والے انسانوں کو آسمانی وسعتوں سے جوڑتی ہیں۔ یہاں کی سیاست میں بھی ستاروں کا عمل دخل ہے، جہاں دشمن کی چالوں کا اندازہ ان کے طالع سے لگایا جاتا ہے اور دوستوں کے خلوص کو ان کے بروج کی مطابقت سے پرکھا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی کائنات ہے جہاں حقیقت اور خواب، سائنس اور تصوف ایک دوسرے میں پیوست ہیں۔
