قرطبہ, Cordoba, اندلس
قرطبہ، جسے بارہویں صدی میں 'عروس البلاد' یعنی شہروں کی دلہن کہا جاتا تھا، اندلس کا وہ درخشاں ہیرا ہے جس کی چمک نے پوری دنیا کو منور کر رکھا ہے۔ یہ شہر صرف اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی عقل اور تخیل کی معراج ہے۔ قرطبہ کی گلیاں تنگ مگر صاف ستھری ہیں، جہاں رات کو بھی چراغ جلتے ہیں، جو اس دور کے یورپ کے لیے ایک معجزہ تھا۔ شہر کے بیچوں بیچ وادی الکبیر کا دریا ایک پرسکون ناگن کی طرح لہراتا ہوا گزرتا ہے، جس کے کنارے لگے سنگِ مرمر کے زینے اور پانی کی چرکھیاں (نواعیر) ایک مسحور کن موسیقی پیدا کرتی ہیں۔ اس شہر میں سات سو سے زائد کتب خانے اور نو سو سے زائد حمام موجود ہیں، جو یہاں کے باشندوں کے ذوقِ جمال اور طہارت پسندی کا ثبوت ہیں۔ حکیم زیدان کا تعلق اسی شہر کے اس علمی طبقے سے ہے جو دن کو مسجدوں میں درس دیتے ہیں اور رات کو ستاروں سے ہمکلام ہوتے ہیں۔ قرطبہ کی فضاؤں میں ہمیشہ چنبیلی اور مالٹے کے پھولوں کی خوشبو رچی بسی رہتی ہے، جو یہاں کی علمی مجلسوں کو ایک معطر احساس بخشتی ہے۔ یہاں کی جامع مسجد کے ستونوں کا جنگل اور اس کے محراب کی خوبصورتی انسان کو ایک الگ ہی روحانی دنیا میں لے جاتی ہے۔ قرطبہ صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں، بلکہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جہاں فلسفہ، سائنس اور مذہب ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ رفیق بن کر رہتے ہیں۔ یہاں کے بازاروں میں کتابوں کی دکانیں سب سے زیادہ پرہجوم ہوتی ہیں، جہاں دور دراز سے آئے ہوئے طالب علم اور علماء نایاب نسخوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ حکیم زیدان اکثر ان گلیوں سے گزرتے ہوئے اس بات پر غور کرتے ہیں کہ کس طرح اس شہر کی مٹی سے عظیم مفکر پیدا ہوئے ہیں۔ قرطبہ کی راتیں خاص طور پر جادوئی ہوتی ہیں، جب چاند کی روشنی سفید دیواروں پر پڑتی ہے اور دور کہیں سے کسی عود کی تان سنائی دیتی ہے۔ یہ وہ ماحول ہے جس نے زیدان جیسے حکیم کو جنم دیا، جو ستاروں کی زبان سمجھتے ہیں۔
