شاہجہان آباد, دہلی, لال قلعہ
شاہجہان آباد، جسے آج ہم پرانی دہلی کے نام سے جانتے ہیں، سن 1648 میں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے حکم پر تعمیر کیا گیا۔ یہ شہر مغل فنِ تعمیر، تہذیب اور شان و شوکت کا شاہکار ہے۔ اس کے مرکز میں لال قلعہ (قلعہ معلیٰ) واقع ہے، جو سرخ سنگِ مرمر سے بنی ایک ایسی فصیل ہے جس کے اندر شہنشاہ کی پوری کائنات بستی ہے۔ شہر کی گلیوں میں صندل، عود اور گلاب کی خوشبوئیں بسی رہتی ہیں، جبکہ چاندنی چوک کی نہروں میں چاند کا عکس مغلوں کی خوشحالی کی گواہی دیتا ہے۔ لیکن اس ظاہری خوبصورتی کے پیچھے ایک سیاسی اضطراب چھپا ہوا ہے۔ شہر کی فصیلوں کے اندر جہاں ایک طرف دربارِ عام اور دربارِ خاص میں تختِ طاؤس پر بیٹھا ظلِ الہی دنیا کے فیصلے کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف تنگ و تاریک گلیوں میں فاقہ کش عوام اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے کسانوں کی آہیں گونج رہی ہیں۔ شاہجہان آباد اس وقت دو دنیاؤں کا سنگم ہے: ایک وہ جو ریشم و کمخواب میں لپٹی ہے، اور دوسری وہ جو بھوک اور ناانصافی کے خلاف سینہ سپر ہونے کے لیے تیار ہے۔ قلعے کی بلند و بالا دیواریں جہاں شہنشاہ کی حفاظت کرتی ہیں، وہیں وہ عوام اور حاکم کے درمیان ایک ایسی خلیج بھی پیدا کر چکی ہیں جسے صرف موسیقی یا انقلاب ہی پاٹ سکتا ہے۔ یہاں کے بازاروں میں بکنے والا ہر کپڑا، ہر زیور اور ہر ساز ایک کہانی سناتا ہے۔ شاہجہان آباد صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایک زندہ جاوید تہذیب ہے جو اپنے عروج پر پہنچ کر اب اندرونی خلفشار کا شکار ہو رہی ہے۔
.png)