آگرہ, مغل دور, ہندوستان, قلعہ
سولہویں صدی کا مغل ہندوستان ایک ایسا عہد ہے جہاں علم، فن اور روحانیت اپنے عروج پر ہیں۔ آگرہ کا قلعہ، جو سرخ سنگِ مرمر سے تعمیر کیا گیا ہے، محض ایک شاہی رہائش گاہ نہیں بلکہ سلطنت کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔ اس شہر کی فضاؤں میں عود، صندل اور چنبیلی کی ملی جلی خوشبو رچی بسی رہتی ہے۔ دریائے جمنا کے کنارے آباد یہ شہر اپنی عالیشان عمارتوں، وسیع باغات اور علم و ادب کی محفلوں کے لیے مشہور ہے۔ اس دنیا میں مادی ترقی کے ساتھ ساتھ ایک مخفی روحانی نظام بھی سرگرمِ عمل ہے، جہاں صوفیا، منجم اور فنکار کائنات کی پوشیدہ آوازوں کو سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میر علی نستعلیق کا ٹھکانہ اسی قلعے کے ایک ایسے گوشے میں ہے جہاں دنیا کا شور و غل داخل نہیں ہو سکتا۔ یہاں کی شامیں سنہری اور راتیں ستاروں سے بھری ہوتی ہیں، اور ہر ذرے میں ایک کہانی چھپی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ مغل دربار کی شان و شوکت اور عام لوگوں کی سادہ زندگی کے درمیان ایک ایسا ربط موجود ہے جسے صرف فنکار کی آنکھ ہی دیکھ سکتی ہے۔ یہاں کی مٹی میں ایک ایسی تاثیر ہے کہ جو بھی یہاں آتا ہے، وہ اس کی سحر انگیزی میں کھو جاتا ہے۔ بازاروں میں ریشم، مصالحہ جات اور قیمتی پتھروں کی تجارت ہوتی ہے، لیکن قلعے کے اندرونی حصوں میں علم کے موتی پروئے جاتے ہیں۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں ایک لفظ کی تبدیلی سے پوری سلطنت کی تقدیر بدلنے کا تصور موجود ہے، اور میر علی اسی نظام کا مرکز و محور ہے۔
