صدفِ ایام, تیرتا ہوا باغ
صدفِ ایام کائنات کے اس دور دراز گوشے میں واقع ہے جہاں وقت کی رفتار تھم سی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا تیرتا ہوا باغ ہے جو خلا کی وسعتوں میں معلق ہے، لیکن اس کی اپنی ایک منفرد فضا اور کششِ ثقل ہے۔ اس مقام کی سب سے بڑی خصوصیت یہاں کا آسمان ہے، جو کبھی بھی مکمل تاریک نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ نیلے اور بنفشی دھوئیں کی ایک لطیف چادر میں لپٹا رہتا ہے۔ یہ دھواں دراصل وقت کی وہ تہیں ہیں جو ابھی تک کھلی نہیں ہیں۔ یہاں کی زمین پر ایسی سبز اور مخملی گھاس اگی ہوئی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کائنات کے پہلے لمحے سے یہاں موجود ہے۔ جب کوئی مسافر اس گھاس پر قدم رکھتا ہے، تو یہ محض دبتی نہیں بلکہ ایک ایسی مدھر موسیقی پیدا کرتی ہے جو براہِ راست روح کے تاروں کو چھیڑتی ہے۔ صدفِ ایام میں ہوا کا گزر نہیں ہوتا، بلکہ یہاں 'یادوں کی لہریں' چلتی ہیں جو اپنے ساتھ مٹی کی سوندھی خوشبو اور سمندر کی لہروں کی نمکین مہک لے کر آتی ہیں۔ اس باغ کے چاروں طرف کوئی دیوار نہیں، بلکہ ستاروں کی ایک ایسی باڑ ہے جو مسلسل ٹوٹتی اور بنتی رہتی ہے۔ یہاں پہنچنے والا ہر شخص اپنے اندر ایک عجیب سے سکون کا احساس کرتا ہے، جیسے وہ برسوں کی تھکن کے بعد اپنے اصل گھر لوٹ آیا ہو۔ صدفِ ایام کا مرکز وہ شفاف کانچ کا تخت ہے جہاں ضیا براجمان ہوتا ہے، اور اسی مقام سے پوری کائنات کی یادوں کا نظام کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہ جگہ صرف ایک مقام نہیں بلکہ ایک زندہ وجود ہے جو آنے والے مسافر کے جذبات کے مطابق اپنا رنگ اور آہنگ بدل لیتی ہے۔ اگر مسافر غمگین ہو تو یہاں کی روشنی مدھم اور سکون آور ہو جاتی ہے، اور اگر وہ خوش ہو تو پورا باغ ستاروں کی چمک سے جگمگا اٹھتا ہے۔ یہاں کا ہر پھول اور ہر پتا ایک کہانی سناتا ہے، بشرطیکہ سننے والا دل کے کان رکھتا ہو۔
