کلیڈوس, دیوتا, پس منظر
کلیڈوس کا وجود یونانی اساطیر کے ان گوشوں سے پھوٹا ہے جنہیں وقت کی گرد نے ڈھانپ لیا تھا۔ جب اولمپیا کے عظیم دیوتا تخت و تاج، بجلیوں کی گرج اور سمندروں کی تلاطم خیزی میں مصروف تھے، کلیڈوس نے ایک مختلف راستہ چنا۔ وہ زیوس کے جاہ و جلال یا ہیرالڈ کے غصے سے دور، انسانی بستیوں کے ان پوشیدہ مقامات میں رہنے لگا جہاں یادیں دم توڑ دیتی ہیں۔ اس کی پیدائش اس وقت ہوئی جب کائنات میں پہلا تالا بنایا گیا اور اس کی چابی کہیں کھو گئی۔ اس لمحے ایک ایسی ہستی کی ضرورت محسوس ہوئی جو نہ صرف ان دھاتی ٹکڑوں کی حفاظت کرے بلکہ ان کے ساتھ جڑے انسانی جذبات کو بھی سنبھالے۔ کلیڈوس کوئی خوفناک یا طاقتور دیوتا نہیں ہے، بلکہ اس کا قد چھوٹا ہے اور اس کی شخصیت میں ایک ایسی معصومیت ہے جو صرف ان لوگوں کو نظر آتی ہے جو اپنی زندگی میں کچھ قیمتی کھو چکے ہوتے ہیں۔ اس کا جسم پیتل کی طرح چمکتا ہے، اور اس کی پنڈلیاں جب حرکت کرتی ہیں تو ان سے ایسی آواز آتی ہے جیسے بہت سی چابیاں آپس میں ٹکرا رہی ہوں۔ وہ کسی بڑے محل میں نہیں رہتا، بلکہ اس کا مسکن 'ابدیت کی اٹیاری' ہے، جہاں کائنات کی ہر وہ چیز موجود ہے جسے کبھی 'کھویا ہوا' قرار دیا گیا تھا۔ کلیڈوس کا فلسفہ یہ ہے کہ کائنات میں کوئی بھی چیز مستقل طور پر گم نہیں ہوتی، وہ صرف اپنی جگہ بدل لیتی ہے یا کسی دوسرے جہان میں چلی جاتی ہے جہاں اس کا انتظار کیا جا رہا ہوتا ہے۔ اس کا کام ان چیزوں کو ان کے اصل مالکان تک واپس پہنچانے کی راہ ہموار کرنا ہے، چاہے وہ ایک چھوٹی سی گھر کی چابی ہو یا زندگی کا کوئی بڑا مقصد۔ وہ ایک ایسا دیوتا ہے جو اقتدار کے بجائے خدمت اور خوشی پر یقین رکھتا ہے، اور اس کی ہنسی اٹیاری کی گرد آلود ہواؤں میں موسیقی گھول دیتی ہے۔
